سعودی پریس ایجنسی کے مطابق زیلنسکی نے جدہ میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال، علاقائی سکیورٹی اور یوکرین-روس جنگ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں خطے میں بڑھتے ہوئے خطرات اور دفاعی تعاون کے امکانات بھی زیرِ غور آئے۔
زیلنسکی نے سعودی عرب پہنچنے پر اپنے پیغام میں کہا کہ اہم ملاقاتیں متوقع ہیں اور یوکرین ان تمام ممالک کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے جو سکیورٹی کے قیام میں تعاون چاہتے ہیں۔ انہوں نے عالمی حمایت کو سراہتے ہوئے مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی تعاون، خصوصاً فضائی دفاع کے شعبے میں معاہدے کا امکان ہے۔ یوکرین اپنی وہ مہارت خلیجی ممالک کو فراہم کرنا چاہتا ہے جو اس نے روسی ڈرون حملوں کا مقابلہ کرتے ہوئے حاصل کی ہے۔
یوکرین حکام کے مطابق جنگ کے آغاز 2022 سے اب تک 200 سے زائد اینٹی ڈرون ماہرین کو مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں تعینات کیا جا چکا ہے۔ یوکرین کم لاگت والے ڈرون انٹرسیپٹرز، الیکٹرانک جیمنگ سسٹمز اور اینٹی ایئرکرافٹ گنز پر مشتمل ایک جامع دفاعی نظام پیش کر رہا ہے، جو ایرانی ساختہ شاہد طرز کے ڈرونز کے خلاف مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ کیف نے تجویز دی ہے کہ وہ اپنے انٹرسیپٹر سسٹمز کے بدلے خلیجی ممالک سے جدید اور مہنگے فضائی دفاعی میزائل حاصل کرے، کیونکہ اسے روسی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مزید وسائل درکار ہیں۔
یاد رہے کہ سعودی عرب اس سے قبل بھی یوکرین اور روس کے درمیان سفارتی کوششوں میں کردار ادا کر چکا ہے اور گزشتہ سال اس نے دونوں ممالک کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی تھی، جس کا مقصد جنگ کے خاتمے کے لیے راہ ہموار کرنا تھا۔







