عالمی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ سعودی ولی عہد کا 2018 میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد امریکا کا پہلا دورہ ہے۔
وائٹ ہاؤس آمد پر صدر ٹرمپ نے شہزادہ محمد بن سلمان سے مصافحہ کیا، اس موقع پر دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ فلائی پاسٹ کے بعد دونوں رہنما اوول آفس کی جانب روانہ ہوئے، جہاں ملاقات شیڈول ہے۔
ایک اعلیٰ امریکی اہلکار نے تصدیق کی کہ سعودی فٹ بال کلب النصر کے کپتان کرسٹیانو رونالڈو بھی وائٹ ہاؤس میں موجود ہیں۔
#PICTURES: US President Donald Trump welcomes Saudi Crown Prince Mohammed bin Salman to the White House#SaudiUSsummit#MBSINUSA pic.twitter.com/2AnsVznEpP
— محمد بن سلمان بن عبد العزيز (Informal) (@HRHMBNSALMAAN) November 18, 2025
امریکی حکام کے مطابق ملاقات میں دفاعی تعاون بڑھانے، دفاعی خریداری کے نئے معاہدوں، مصنوعی ذہانت، انفرا اسٹرکچر میں سعودی سرمایہ کاری، سول نیوکلیئر توانائی کے باہمی تعاون اور متعدد دیگر معاہدوں پر بات چیت ہونے کی توقع ہے۔ یہ معاہدے سعودی عرب کی امریکا میں 600 ارب ڈالرز سرمایہ کاری کے وعدے کے تحت کیے جائیں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی سعودی عرب کو ایف-35 لڑاکا طیارے فروخت کرنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں، جب کہ سعودی عرب امریکا سے باقاعدہ سکیورٹی ضمانت کا خواہاں ہے۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ رواں سال مئی میں اپنے دورۂ سعودی عرب کے دوران کیے گئے 600 ارب ڈالرز کی سعودی سرمایہ کاری کے وعدوں کو عملی شکل دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔







