قصہ کچھ یوں شروع ہوا۔۔۔ وزیراعلیٰ پنجاب گیارہ ارب روپے مالیت کے سرکاری جہاز پر بیٹی کی گریجویشن دیکھنے لندن پہنچیں۔ عوامی خزانے سے اس ’نجی‘ سفر پر تنقید ہوئی تو ترجمان صاحبہ میدان میں اتریں۔۔۔اعلان ہوا کہ تمام اخراجات خود ادا کیے جائیں گے، منگل تک رسیدیں جاری ہو جائیں گی۔ منگل آئی، گزر گئی، اور رسیدیں... رسیدیں کہاں ہیں؟ کسی کو خبر نہیں۔

قوم ابھی حساب کتاب کے انتظار میں تھی، سوال بڑھ رہے تھے کہ گیارہ ارب کے طیارے کا اصل خرچ کتنا؟ صوبائی خزانے کو کرائے کی مد میں کچھ ملا بھی یا نہیں؟ ایسے میں، جیسے کسی ہدایت کار نے وقت ناپ کر سین کاٹا ہو، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی انٹری ہو گئی۔

سہیل آفریدی صاحب آندھی کی طرح لاہور میں داخل ہوئے، سڑک پر بیٹھے، اٹھے، پروٹوکول کی گاڑیاں خود رکوائیں پھر خود ہی چلوائیں، پولیس نے خوب تھیٹر کیا۔۔۔ کبھی روکا، کبھی چھوڑا، کبھی وین میں بٹھایا، کبھی فٹ پاتھ پر بٹھا دیا۔ اور جیسے ہی یہ نیٹ فلیکس ایپیسوڈ اپنے کلائمکس پر پہنچا، موصوف اتنی ہی تیزی سے نکل بھی گئے جتنی تیزی سے آئے تھے۔

نتیجہ؟ قوم بٹ گئی۔۔۔۔ کوئی سہیل آفریدی کی "بہادری" پر واہ واہ کر رہا ہے، کوئی ان کی "ڈرامہ بازی" پر طنز۔ مگر اس پوری بحث کے شور میں ایک سوال خاموشی سے دفن ہو گیا وہ ہے مریم نواز کی رسیدیں کہاں ہیں؟

یہ کوئی نئی حکمتِ عملی نہیں۔ ہماری سیاست کا پرانا اصول ہے۔۔۔۔۔ جب ایک طرف جواب دینا مشکل ہو جائے تو دوسری طرف سے اتنا شور برپا کر دو کہ اصل سوال خود بخود پسِ منظر میں چلا جائے۔ نہ کسی نے باضابطہ اعلان کیا کہ "یہ سب مریم نواز کو بچانے کے لیے کیا گیا"، اور نہ ہی اس کا کوئی تحریری ثبوت ملے گا۔ سیاسی میدان میں ایسے "ریسکیو آپریشن" کبھی پریس ریلیز کے ساتھ نہیں آتے۔ مگر وقت کی مطابقت، ٹائمنگ کی "پرفیکشن"، اور نتیجے میں میڈیا کی توجہ کا رخ بدل جانا۔۔۔۔ یہ سب مل کر ایک ایسی کہانی بُنتے ہیں جسے نظر انداز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

شاید یہ محض اتفاق ہو۔ شاید سہیل آفریدی صاحب کا اپنا ایجنڈا تھا۔ کارکنوں پر چھاپے، ایم پی او آرڈرز، ایک کارکن کی مبینہ ہلاکت۔۔۔ ان سب کا حساب چکانا مقصود تھا۔ مگر سیاست میں اتفاقات کبھی کبھار اتنے "بروقت" ہوتے ہیں کہ ان پر شک کرنا کوئی زیادتی نہیں لگتا۔

بہرحال، جو بھی حقیقت ہو، ایک بات طے ہے کہ جس ہفتے میں گیارہ ارب کے جہاز کا حساب مانگا جا رہا تھا، اسی ہفتے قوم کو ایک نیا "کنٹینٹ" دے دیا گیا، اور رسیدیں... رسیدیں آج بھی وہیں ہیں جہاں پہلے تھیں یعنی غائب۔

شاید کسی دن جواب مل ہی جائے۔ تب تک، تماشا جاری ہے، اور تماشائی یعنی عوام  ہر نئی قسط کا انتظار کر رہے ہیں۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر