نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دو الگ الگ تکنیکی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ واقعہ منگل کے روز پیش آیا جب صدر ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر پہنچے۔ وہاں نصب خودکار سیڑھی یعنی اسکیلیٹر جیسے ہی صدر اور ان کی اہلیہ نے استعمال کرنا چاہا تو وہ اچانک رک گیا۔

اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفین دوجارک کے مطابق اسکیلیٹر کے سیکیورٹی سسٹم نے اس وقت کام کیا جب ٹرمپ سے پہلے کوئی شخص اس پر سوار ہوا تھا۔ یہ مکمل طور پر ایک اتفاقی تکنیکی مسئلہ تھا اور اسے چند منٹوں میں بحال کر دیا گیا۔

واقعے کے بعد وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولائن لیوٹ نے اسے ناقابل برداشت قرار دیا اور کہا کہ اگر کسی نے جان بوجھ کر یہ کیا ہے تو اس کے خلاف فوری کارروائی ہونی چاہیے۔ اس واقعے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ اس کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔

اسی دن صدر ٹرمپ کی اقوام متحدہ میں تقریر کے دوران ایک اور تکنیکی مسئلہ پیش آیا جب ان کا ٹیلی پرامپٹر اچانک بند ہو گیا۔ اس پر صدر نے فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی اس ٹیلی پرامپٹر کو چلا رہا ہے، وہ بڑی مشکل میں ہے۔

انہوں نے مزید کہا میں نے سات جنگیں ختم کیں، دنیا بھر کے رہنماؤں سے بات کی، لیکن اقوام متحدہ سے مجھے صرف دو چیزیں ملیں ایک خراب اسکیلیٹر اور ایک خراب ٹیلی پرامپٹر۔

اقوام متحدہ کے ترجمان نے ٹیلی پرامپٹر کے مسئلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ وائٹ ہاؤس کا اپنا انتظام ہے اور اس حوالے سے ادارہ کوئی رائے نہیں دے سکتا۔

اقوام متحدہ کے بعض ذرائع کے مطابق اسکیلیٹر کے حوالے سے عملے میں پہلے سے غیر رسمی گفتگو جاری تھی کہ صدر ٹرمپ کو لفٹ یا سیڑھی کی سہولت نہ دی جائے۔ تاہم ان ذرائع نے اس بات کو مذاق قرار دیا اور کسی سازش یا جان بوجھ کر کی گئی کارروائی کی تردید کی۔

واضع رہے کہ تکنیکی مسائل کے باوجود صدر ٹرمپ نے اجلاس میں اپنی شرکت جاری رکھی تاہم ان واقعات پر عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف آراء اور تبصرے سامنے آئے۔ مستقبل میں اقوام متحدہ یا امریکی حکومت کی جانب سے کسی ممکنہ وضاحت یا تحقیقات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔