یہ پیش رفت ہفتے کے روز اس وقت سامنے آئی جب ٹیکنالوجی کمپنیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ریاستی نگرانی کے اختیارات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اس نئے عالمی فریم ورک کا مقصد ڈیجیٹل جرائم کے خلاف بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ معاہدے میں بچوں سے متعلق فحش مواد، سرحد پار آن لائن دھوکا دہی، اور منی لانڈرنگ جیسے جرائم پر قابو پانے کے لیے مشترکہ اقدامات شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے اس معاہدے کو اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف آغاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ آن لائن فراڈ روزانہ خاندانوں کو تباہ کر رہا ہے، تارکین وطن کو لوٹ رہا ہے، اور عالمی معیشت سے اربوں ڈالر نکال رہا ہے، لہٰذا اس کے خلاف متحد عالمی ردعمل ضروری ہے۔
یہ معاہدہ سب سے پہلے 2017 میں روسی سفارت کاروں کی جانب سے پیش کیا گیا تھا، جسے طویل مذاکرات کے بعد گزشتہ سال اتفاق رائے سے منظور کیا گیا۔
ناقدین کے مطابق معاہدے کی مبہم زبان حکومتوں کو اپنے مخالفین کے خلاف کارروائی کا جواز فراہم کر سکتی ہے اور طاقت کے غلط استعمال کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔
ٹیک گلوبل انسٹی ٹیوٹ کی بانی سبحاناز راشد دیا نے کہا کہ یہ معاہدہ کمپنیوں پر دباؤ ڈالنے کا ذریعہ بن سکتا ہے کہ وہ حکومتوں کو صارفین کا ڈیٹا فراہم کریں، جو آمرانہ ریاستوں میں صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
ویتنامی حکومت کے مطابق 60 ممالک نے معاہدے پر دستخط کے لیے رجسٹریشن کرائی ہے، تاہم ان ممالک کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فہرست میں روس، چین اور ان کے اتحادیوں کے علاوہ دیگر ممالک بھی شامل ہیں۔
جنوب مشرقی ایشیا میں حالیہ برسوں میں آن لائن فراڈ کی صنعت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جہاں ہزاروں افراد اس دھوکے بازی میں ملوث ہیں اور متاثرین سالانہ اربوں ڈالر گنوا رہے ہیں۔
سبحاناز دیا کے مطابق جمہوری ممالک کو بھی کسی حد تک ڈیٹا تک رسائی درکار ہوتی ہے، جو موجودہ قوانین کے تحت ممکن نہیں، اسی لیے وہ اس معاہدے کو انسانی حقوق سے متعلق شقوں کے باعث ایک متوازن دستاویز کے طور پر دیکھ سکتے ہیں۔
تاہم انسانی حقوق کی ایک درجن سے زائد تنظیموں نے مشترکہ خط کے ذریعے ان شقوں کو ناکافی اور کمزور قرار دیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ معاہدہ شہری آزادیوں کو محدود کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔







