وائٹ ہاؤس میں کرسمس کی تقریب سے خطاب کے دوران امریکی صدر کا کہنا تھا کہ سڈنی کے بونڈائی بیچ پر مذہبی تہوار منانے والوں کو نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک ہے۔  دنیا بھر میں لوگ بلاخوف اپنے مذہبی تہوار منائیں، دہشت گردی انہیں روک نہیں سکتی۔

امریکی صدر نے واقعے کے دوران جان کی پروا کیے بغیر حملہ آور کو قابو میں کرنے والے شہری کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس شخص نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا اور کئی قیمتی جانیں بچائیں، وہ مکمل احترام کے لائق ہے۔

آسٹریلوی میڈیا کے مطابق فائرنگ کے واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد 16 تک جا پہنچی، جبکہ ایک حملہ آور کو موقع پر موجود شہری نے دلیری سے پکڑ کر اسلحہ چھین لیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس بہادر شخص کی شناخت 43 سالہ احمد ال احمد کے نام سے ہوئی ہے، جو سڈنی میں پھلوں کی دکان چلاتے ہیں اور دو بچوں کے والد ہیں۔ احمد ال احمد کی بہادری کو سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں بھرپور سراہا جا رہا ہے۔

دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام میں امریکی فوجیوں پر حملے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی شامی حکومت نے نہیں بلکہ داعش نے کی تھی، اور حملہ آوروں کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی سڈنی حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہود دشمنی کی اس دنیا میں کوئی جگہ نہیں، ہماری ہمدردیاں متاثرین، یہودی برادری اور آسٹریلیا کے عوام کے ساتھ ہیں۔