رپورٹ کے مطابق وال اسٹریٹ جرنل نے بتایا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے ایرانی تیل کی برآمدات روکنے کے لیے سخت اقدامات شروع کیے ہیں اور ہر اُس جہاز کو روکنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے جو ایرانی بندرگاہوں کی طرف جائے یا وہاں سے روانہ ہو۔
امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ایران نے داخلی بحران کے باعث امریکہ سے ناکہ بندی ختم کرنے کی درخواست کی ہے، تاہم ساتھ ہی انہوں نے اشارہ دیا کہ جوہری پروگرام پر بات چیت کو مذاکرات کے آغاز میں شامل کیا جانا چاہیے، جب کہ تہران چاہتا ہے کہ یہ معاملہ جنگ کے بعد زیر بحث آئے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کی تازہ تجویز کو نسبتاً بہتر قرار دیا ہے لیکن اس کی سنجیدگی پر سوال اٹھائے ہیں۔
ایران کی جانب سے نائب وزیر دفاع رضا طلائی نیک نے امریکی مطالبات کو غیر قانونی اور غیر معقول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن اب آزاد ممالک پر اپنی پالیسیاں مسلط کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔
دوسری جانب خطے میں سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسلام آباد کے دورے کیے تاہم فوری طور پر کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔
توانائی کی عالمی منڈی بھی اس کشیدگی سے متاثر ہوئی ہے، برینٹ خام تیل کی قیمت میں اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے جبکہ عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال برقرار رہی تو آئندہ برسوں میں توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں نمایاں کمی عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی کے لیے سنگین چیلنج بن رہی ہے، کیونکہ پہلے جہاں روزانہ درجنوں جہاز گزرتے تھے اب یہ تعداد بہت کم رہ گئی ہے۔






