فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق کویت اور اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان کے دفاعی نظام ایران کے تازہ حملوں کا جواب دے رہے ہیں۔ یہ حملے اس وسیع تنازع کا حصہ ہیں جو ایک ماہ قبل امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حملوں کے بعد شروع ہوا تھا اور اس کے جواب میں ایران نے جوابی کارروائیاں کی تھیں۔
یہ جنگ اب پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل چکی ہے اور اس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ ایران کی افواج آبنائے ہرمز پر مضبوط کنٹرول رکھے ہوئے ہیں، جو تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے ایک اہم عالمی گزرگاہ ہے، جبکہ وہ خلیجی ممالک کے معاشی اہداف کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں جنہیں وہ امریکہ اور اسرائیل کا حامی تصور کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے سنیچر کو کہا تھا کہ ایران کے پاس آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق معاہدہ کرنے کے لیے 48 گھنٹے باقی ہیں، بصورت دیگر سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک بیان میں کہا تھا کہ وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور مہلت کے بعد سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
ایران کی مرکزی فوجی قیادت نے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے غیر متوازن اور غیر سنجیدہ قرار دیا۔ ایرانی جنرل علی عبداللہی علی آبادی نے امریکی صدر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس کے نتائج خود امریکہ کے لیے بھی خطرناک ہو سکتے ہیں۔
بعد ازاں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں رات کے وقت آسمان کو دھماکوں سے روشن دکھایا گیا تھا اور دعویٰ کیا کہ ایران کے کئی فوجی رہنما مارے گئے ہیں اور تہران میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، تاہم انہوں نے اس واقعے کے وقت یا مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔







