امریکی ٹی وی چینل فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں سٹیو وٹکوف، جو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ مذاکرات میں شریک رہے ہیں، نے کہا کہ وہ مایوس کا لفظ استعمال نہیں کرنا چاہتے کیونکہ صدر کے پاس مختلف آپشنز موجود ہیں، تاہم وہ اس بات پر حیران ہیں کہ ایران نے ابھی تک امریکی مطالبات کیوں نہیں مانے۔
ان کے بقول صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان سے سوال کیا کہ خطے میں امریکی بحری قوت کی موجودگی اور دباؤ کے باوجود تہران نے ہمت کیوں نہیں ہاری اور واضح طور پر یہ اعلان کیوں نہیں کیا کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنا چاہتا۔
Witkoff sobre Irán: Trump está curioso por qué los iraníes, a pesar de nuestro extenso equipamiento en el mar, aún no se han rendido! pic.twitter.com/kmvQmhB1q3
— Antiliberal 🇪🇦 #spexit (@Antoniodelmonio) February 22, 2026
سٹیو وٹکوف نے بتایا کہ مذاکرات سے قبل صدر ٹرمپ اور ان کے داماد و سینیئر مشیر جیرڈ کشنر نے انہیں چند اہم ہدایات دی تھیں، جن میں یورینیئم کی افزودگی روکنے اور پہلے سے افزودہ مواد کو واپس کرنے پر زور شامل تھا۔
انہوں نے کہا کہ ایران اگرچہ سویلین جوہری پروگرام کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن اس نے یورینیئم کو شہری ضروریات سے کہیں زیادہ سطح تک افزودہ کیا ہے۔ ان کے مطابق ایران بم بنانے کے لیے درکار صنعتی سطح تک پہنچنے سے شاید ایک ہفتے کی دوری پر ہے، جو انتہائی تشویشناک بات ہے اور امریکا اسے قبول نہیں کر سکتا۔
وٹکوف نے یہ بھی انکشاف کیا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ کی درخواست پر ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی سے ملاقات کی۔ ان کے بقول یہ ایک کھلا اور عوامی معاملہ ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ رضا پہلوی اپنے ملک کے لیے مضبوط انتخاب ثابت ہو سکتے ہیں۔
Trump curious why Iran has not capitulated amid US military buildup, says Witkoff https://t.co/tw491oIzB0 https://t.co/tw491oIzB0
— Reuters (@Reuters) February 22, 2026
دوسری جانب عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جنیوا میں ہونے والی حالیہ بات چیت کے دوران ایران نے یورینیئم کی افزودگی روکنے کی کوئی تجویز پیش نہیں کی اور نہ ہی امریکا نے صفر افزودگی کا باضابطہ مطالبہ کیا۔
عباس عراقچی نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی سے ٹیلی فون پر گفتگو بھی کی، جس میں مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے اور دیرپا مفاہمت کے لیے تعمیری مکالمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ رافیل گروسی نے جنیوا مذاکرات کو ’ایک قدم آگے‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ وقت محدود ہے۔






