بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں اسرائیلی قیادت نے ایران کے اندرونی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کے خلاف عوامی احتجاج کو ابھارنے کی تجویز پیش کی تھی، نیتن یاہو کا مؤقف تھا کہ ایرانی حکومت اس وقت دباؤ اور عدم استحکام کا شکار ہے، اور یہ وقت اسے مزید کمزور کرنے کے لیے موزوں ہو سکتا ہے۔

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے عام شہریوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے،لوگوں کو سڑکوں پر لانے کا مطلب انہیں ممکنہ خطرات کے سامنے لانا ہے، جو کسی صورت مناسب حکمت عملی نہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے فی الحال ایران میں حکومت کی تبدیلی کو فوری ہدف بنانے سے گریز کیا ہے اور صورتحال کو سفارتی انداز میں حل کرنے پر زور دیا ہے۔

دوسری جانب ایک اہم پیش رفت میں امریکا اور اسرائیل نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمانی اسپیکر باقر قالیباف کو عارضی طور پر ہدف کی فہرست سے نکال دیا ہے۔

امریکی جریدے کے مطابق یہ فیصلہ ممکنہ امن مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے مقصد سے کیا گیا ہے،ان دونوں اعلیٰ ایرانی شخصیات کو چند دنوں کے لیے نشانے کی فہرست سے ہٹایا گیا ہے تاکہ سفارتی رابطوں کا راستہ کھلا رکھا جا سکے۔

مزید پڑھیں: ایران کا امریکی ایف 18 لڑاکا طیارے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، ویڈیو جاری، واشنگٹن کی تردید

ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ نے خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے اعلیٰ سطح کے مذاکرات کا دروازہ کھولنے کی ہدایت دی ہے۔ اس تناظر میں امریکا اور اس کے اتحادی سفارتی آپشنز پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکا کی جانب سے اس طرح کے اقدامات خطے میں ممکنہ تصادم کو ٹالنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی کوششوں کا حصہ ہیں،اگر یہ سفارتی کوششیں کامیاب ہوئیں تو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

عالمی مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں امریکا، ایران اور دیگر متعلقہ فریقین کے درمیان ہونے والے ممکنہ رابطے خطے کی صورتحال کا رخ متعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔