ان کا کہنا ہے کہ امریکا کہتا ہے کہ وہ بامعنی مذاکرات کے لیے تیار ہے، مگر ساتھ ہی یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ایران اپنے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حقوق کو نظرانداز کر دے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں عباس عراقچی نے لکھا کہ یہ ڈکٹیشن ہے، مذاکرات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا نے خود دیکھا کہ ایران کس طرح مذاکرات کر رہا تھا، جب کہ اس دوران امریکا نے ایرانی عوام پر گولیاں چلانے کا راستہ اختیار کیا اور سفارتی عمل کو سبوتاژ کیا۔
A new definition of diplomacy by the U.S.:
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) December 24, 2025
“We are ready for a meaningful negotiation but forget about your internationally recognized rights.”
This is dictation and not negotiation, let alone a meaningful one.
The world witnessed how we were negotiating when the U.S. opted to…
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران ہمیشہ کی طرح مزاحمت کرتا ہے اور ہر اس جارحیت کا جواب دیتا ہے جو اس کے خلاف کی جائے، تاکہ مخالفین کو اپنی کارروائی کا پچھتاوا ہو۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ سفارت کاری کا ہاتھ بڑھانے کا مطلب یہ نہیں کہ بمبار طیارے بھیجے جائیں اور پھر ان کی ناکامی کو کامیابی قرار دیا جائے۔
انہوں نے زور دیا کہ دنیا کو دھوکہ دینے کی بجائے حقیقی اور دیانتدار سفارت کاری کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ آج سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکی نمائندے کا کہنا تھا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ ’زیرو انرچمنٹ‘ یا یورینیم افزودہ نہ کرنے کے بدلے میں براہ راست مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
🇺🇸🇮🇷 U.S. AND IRAN GO AT IT AT THE UN: "ZERO ENRICHMENT OR NO DEAL"
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) December 23, 2025
Nuclear diplomacy is back to square one.
The US and Iran clashed at the UN Security Council Tuesday over conditions for reviving nuclear talks.
Washington says it s open to direct negotiations, but only if… pic.twitter.com/8ot9rrSkn5
دوسری جانب جواب میں ایرانی نمائندے کا کہنا تھا کہ سفارت کاری تب ہی ممکن ہے جب یورپ اور امریکہ اپنے رویے میں تبدیلی لائیں۔






