ان کا کہنا ہے کہ امریکا کہتا ہے کہ وہ بامعنی مذاکرات کے لیے تیار ہے، مگر ساتھ ہی یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ایران اپنے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حقوق کو نظرانداز کر دے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں عباس عراقچی نے لکھا کہ یہ ڈکٹیشن ہے، مذاکرات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا نے خود دیکھا کہ ایران کس طرح مذاکرات کر رہا تھا، جب کہ اس دوران امریکا نے ایرانی عوام پر گولیاں چلانے کا راستہ اختیار کیا اور سفارتی عمل کو سبوتاژ کیا۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران ہمیشہ کی طرح مزاحمت کرتا ہے اور ہر اس جارحیت کا جواب دیتا ہے جو اس کے خلاف کی جائے، تاکہ مخالفین کو اپنی کارروائی کا پچھتاوا ہو۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ سفارت کاری کا ہاتھ بڑھانے کا مطلب یہ نہیں کہ بمبار طیارے بھیجے جائیں اور پھر ان کی ناکامی کو کامیابی قرار دیا جائے۔

انہوں نے زور دیا کہ دنیا کو دھوکہ دینے کی بجائے حقیقی اور دیانتدار سفارت کاری کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ آج سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکی نمائندے کا کہنا تھا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ ’زیرو انرچمنٹ‘ یا یورینیم افزودہ نہ کرنے کے بدلے میں براہ راست مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

دوسری جانب جواب میں ایرانی نمائندے کا کہنا تھا کہ سفارت کاری تب ہی ممکن ہے جب یورپ اور امریکہ اپنے رویے میں تبدیلی لائیں۔