ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے حالیہ بیانات میں کہا ہے کہ ایران خطے میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے سنجیدہ ہے اور سفارتی راستوں کو بند نہیں کرنا چاہتا، تاہم اس کے لیے امریکا کو اپنی پالیسیوں اور رویے میں واضح تبدیلی لانا ہوگی۔
سرکاری بیان کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے خطے کے اہم ممالک کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے کیے، جن میں سعودی عرب، قطر، ترکیے، مصر، عراق اور آذربائیجان شامل ہیں۔ ان رابطوں کے دوران انہوں نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ کشیدگی اور جنگی صورتحال کے خاتمے کے لیے ایران کے اقدامات سے آگاہ کیا۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات کو ترجیح دی ہے، لیکن یکطرفہ دباؤ، دھمکیوں اور پابندیوں کے ماحول میں بامعنی بات چیت ممکن نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر امریکا واقعی مذاکرات چاہتا ہے تو اسے اعتماد سازی کے اقدامات کرنا ہوں گے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے ایک اہم پیش رفت کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ ممکنہ مذاکرات میں پاکستان کو باضابطہ ثالث کا کردار حاصل ہے۔ ترجمان کے مطابق اگر مذاکرات کے انعقاد سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ کیا گیا تو اس کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: علی الزیدی کو عراق کا وزیراعظم منتخب ہونے پر شہباز شریف کی مبارکباد، دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار
واضح رہے کہ ایران کا یہ بیان ایک طرف سفارتی لچک کو ظاہر کرتا ہے تو دوسری جانب امریکا پر دباؤ ڈالنے کی کوشش بھی ہے تاکہ وہ اپنی پالیسیوں میں نرمی لائے،پاکستان کا ممکنہ ثالثی کردار خطے میں اس کی سفارتی اہمیت کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ مہینوں میں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، اور عالمی برادری مسلسل اس بات پر زور دے رہی ہے کہ تنازعات کا حل فوجی کے بجائے سفارتی ذرائع سے نکالا جائے، اگر دونوں ممالک سنجیدگی سے مذاکرات کی طرف بڑھتے ہیں تو یہ پیشرفت نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتی ہے۔







