شامی سرکاری میڈیا کے مطابق صدر الشراع ہفتے کی رات امریکی دارالحکومت پہنچے۔ ان کے دورے کے موقع پر شامی وزارت داخلہ نے ملک بھر میں داعش کے خفیہ ٹھکانوں کے خلاف وسیع پیمانے پر سیکیورٹی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ کسی بھی شامی صدر کا 1946 میں آزادی کے بعد امریکا کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔ احمد الشراع، جنہوں نے گزشتہ سال طویل عرصے سے برسراقتدار بشارالاسد کو اقتدار سے ہٹایا، رواں سال مئی میں ریاض میں ہونے والے ایک اجلاس میں صدر ٹرمپ سے پہلی بار ملے تھے۔

امریکی حکام کے مطابق صدر الشراع کو جمعے کے روز امریکی دہشت گردی کی پابندیوں کی فہرست سے بھی نکال دیا گیا، جس کے بعد ان کے واشنگٹن آمد کا راستہ ہموار ہوا۔

امریکا کے خصوصی ایلچی برائے شام ٹام بیرک نے امید ظاہر کی ہے کہ صدر الشراع اپنے دورے کے دوران داعش کے خلاف امریکی قیادت میں قائم بین الاقوامی اتحاد میں شمولیت کے معاہدے پر دستخط کریں گے۔

بین الاقوامی خبر ایجنسیوں رائٹرز اور اے ایف پی کے مطابق واشنگٹن دمشق میں ایک فضائی اڈے پر فوجی موجودگی قائم کرنے کی تیاری بھی کر رہا ہے، تاکہ شام اور اسرائیل کے درمیان سیکیورٹی معاہدے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ تاہم، شامی وزارت خارجہ نے ان اطلاعات کی تردید کر دی ہے۔

صدر الشراع اپنے دورے میں شام کی تعمیرِ نو کے لیے مالی امداد بھی طلب کریں گے۔ عالمی بینک کے مطابق 13 سالہ خانہ جنگی کے بعد شام کی بحالی کے لیے کم از کم 216 ارب ڈالر درکار ہیں۔

احمد الشراع ماضی میں القاعدہ سے منسلک گروہ کے رہنما رہے، تاہم ان کا گروہ بعد میں داعش سے علیحدہ ہو کر اس کے خلاف لڑائی میں شامل ہو گیا۔ رواں سال جولائی میں امریکا نے ان کے گروہ حیات تحریر الشام (ایچ ٹی ایس) کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے خارج کر دیا تھا۔

صدر الشراع کا یہ دورہ ستمبر میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں ان کے تاریخی خطاب کے بعد ہو رہا ہے، جب وہ کئی دہائیوں میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے والے پہلے شامی صدر بنے تھے۔

دوسری جانب دمشق میں شامی سیکیورٹی فورسز نے ہفتے کے روز ملک بھر میں داعش کے ٹھکانوں پر 61 چھاپے مارے۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق 71 مشتبہ افراد گرفتار کیے گئے جبکہ بارودی مواد اور اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔

سرکاری خبر ایجنسی سانا کے مطابق یہ کارروائیاں حلب، ادلب، حماہ، حمص اور دمشق کے مضافاتی علاقوں میں کی گئیں اور اس کا مقصد دہشت گردی کے خاتمے اور عوامی سلامتی کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔