دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں وزرائے خارجہ نے کہا کہ غزہ میں ناکافی انسانی رسائی، جان بچانے والی اشیاء کی شدید قلت، بنیادی خدمات کی بحالی میں سست روی اور عارضی رہائش کے لیے درکار سامان کی بروقت فراہمی نہ ہونے سے حالات مزید پیچیدہ ہو چکے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ شدید موسمی حالات نے بالخصوص ان تقریباً 19 لاکھ بے گھر فلسطینیوں کی نازک صورتحال کو بے نقاب کر دیا ہے جو ناکافی اور غیر محفوظ پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔
وزرائے خارجہ نے کہا کہ سیلاب زدہ کیمپ، تباہ شدہ خیمے، پہلے سے متاثرہ عمارتوں کا انہدام، غذائی قلت اور شدید سردی نے شہری جانوں کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ان حالات میں بچوں، خواتین، بزرگوں اور طبی طور پر کمزور افراد میں بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
مشترکہ بیان میں اقوام متحدہ کے تمام اداروں بالخصوص یو این آر ڈبلیو اے اور انسانی ہمدردی پر مبنی بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کی کوششوں کو سراہا گیا جو انتہائی مشکل حالات کے باوجود فلسطینی عوام کو امداد فراہم کر رہی ہیں۔
وزرائے خارجہ نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل اس بات کو یقینی بنائے کہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی این جی اوز غزہ اور مغربی کنارے میں بلا رکاوٹ اور پائیدار انداز میں کام کر سکیں، کیونکہ انسانی امداد میں ان کا کردار نہایت اہم ہے۔ امدادی سرگرمیوں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ ناقابل قبول ہے۔
بیان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 اور صدر ٹرمپ کے جامع منصوبے کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس منصوبے پر مؤثر عملدرآمد سے جنگ بندی کے استحکام، غزہ میں جنگ کے خاتمے، فلسطینی عوام کے لیے باعزت زندگی اور فلسطینی حق خودارادیت و ریاست کے قیام کی جانب ایک معتبر راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران میں مظاہروں پر تشدد ہوا تو امریکا مداخلت کرے گا، ڈونلڈ ٹرمپ
وزرائے خارجہ نے فوری طور پر ابتدائی بحالی کے اقدامات شروع کرنے اور انہیں وسعت دینے پر زور دیا، جن میں شدید سرد موسم سے متاثرہ آبادی کے لیے پائیدار اور باوقار رہائش کی فراہمی شامل ہے۔
انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے اور قابض قوت کی حیثیت سے اسرائیل پر دباؤ ڈالے کہ وہ خیموں، رہائشی سامان، طبی امداد، صاف پانی، ایندھن اور صفائی و نکاسی آب کی سہولیات سمیت ضروری اشیاء کی ترسیل اور تقسیم پر عائد پابندیاں فوری طور پر ختم کرے۔
مشترکہ بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ اقوام متحدہ اور اس کے اداروں کے ذریعے غزہ کی پٹی میں فوری، مکمل اور بلا رکاوٹ انسانی امداد فراہم کی جائے، بنیادی ڈھانچے اور ہسپتالوں کو بحال کیا جائے اور صدر ٹرمپ کے منصوبے کے مطابق رفح کراسنگ کو دونوں جانب سے کھولا جائے۔






