مہر نیوز ایجنسی کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای اس وقت اپنے خاندان کے شہدا سے متعلق امور کی نگرانی کر رہے ہیں اور ملک کے اہم معاملات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ اتوار کو اسرائیل اور امریکا کے حملوں میں ان کے والد شہید ہوئے تھے۔ ایرانی میڈیا نے گزشتہ روز آیت اللی خامنہ ای کی اہلیہ منصورہ خجستہ باقرزادہ کے شہید ہونے کی بھی تصدیق کی تھی۔ اس حملے میں مجتبیٰ باقرزادہ کی اہلیہ، آیت اللہ علی خامنہ ای کی ایک بیٹی، ایک نواسی اور ایک پوتا بھی شہید ہوئے تھے۔

مجتبیٰ خامنہ ای سابق رہبرِ اعلیٰ کے دوسرے بیٹے ہیں اور ان کا نام اکثر ان کے والد کے ممکنہ جانشین کے طور پر لیا جاتا رہا ہے۔ مہر نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس وقت خاندانی امور کے ساتھ ساتھ ملکی معاملات کی بھی نگرانی کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ان کی صحت یا زخمی ہونے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات درست نہیں ہیں۔ مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کے بااثر مذہبی اور سیکیورٹی حلقوں میں اثر و رسوخ کا حامل سمجھا جاتا ہے۔

تاہم ایران کے آئینی طریقۂ کار کے مطابق رہبرِ اعلیٰ کے انتخاب کا اختیار مجلسِ خبرگان کے پاس ہوتا ہے، اس لیے کسی بھی ممکنہ تبدیلی کا فیصلہ اسی فورم پر کیا جائے گا۔

ایرانی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ غیر مصدقہ خبروں پر توجہ نہ دیں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری کردہ اطلاعات پر اعتماد کریں۔ اتوار کو اسرائیل اور امریکا کے مشترکہ حملوں میں رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت اور ان کی اہلیہ کے دورانِ علاج شہید ہونے  کی خبروں کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق متضاد اطلاعات گردش کر رہی تھیں۔