86 سالہ آیت اللہ علی خامنہ ای گزشتہ ہفتے امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں شہید  ہوئے تھے۔ وہ گزشتہ 36 برس سے ایران کے سپریم لیڈر کے منصب پر فائز تھے اور ملک کی سیاسی و مذہبی قیادت کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے تھے۔

رپورٹس کے مطابق تدفین سے قبل دارالحکومت تہران میں ایک بڑی الوداعی تقریب منعقد کی جائے گی، جس میں اعلیٰ حکومتی شخصیات، عسکری قیادت اور لاکھوں شہریوں کی شرکت متوقع ہے۔ اس تقریب کا اعلان سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے اپنے سرکاری ٹیلیگرام اکاؤنٹ کے ذریعے کیا۔

آیت اللہ خامنہ ای کا تعلق مشہد سے تھا، جو ایران کا دوسرا بڑا اور مذہبی اعتبار سے انتہائی اہم شہر سمجھا جاتا ہے۔ ان کے والد کی تدفین بھی مشہد میں حضرت امام رضا کے مزار کے احاطے میں ہوئی تھی، جس کے باعث امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انہیں بھی اسی مقدس مقام کے قریب سپردِ خاک کیا جائے گا۔

ادھر خامنہ ای کی شہادت  کے بعد ملک کا اقتدار عارضی طور پر تین رکنی عبوری کونسل کے سپرد کر دیا گیا ہے، جو اس وقت تک ذمہ داریاں انجام دے گی جب تک مجلس خبرگان نئے سپریم لیڈر کا انتخاب نہیں کر لیتی۔ اس عبوری کونسل میں ایرانی صدر، عدلیہ کے سربراہ اور شورائے نگہبان کے ایک فقیہ شامل ہیں۔

فارس نیوز ایجنسی نے ایک سرکاری عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر مجلس خبرگان کا حتمی اجلاس تدفین تک مؤخر کیا جا سکتا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق تہران اور قم میں مجلس خبرگان کی عمارتوں کو حالیہ حملوں میں نقصان پہنچا ہے، جس کے بعد سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین اور نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کا عمل نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرے گا، جبکہ عالمی برادری کی نظریں بھی ایران کی داخلی صورتحال پر مرکوز ہیں۔