یہی وہ تابوت ہے جس میں ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی میت رکھی گئی ہے، جن کی شہادت کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران اپنی تاریخ کے شاید سب سے بڑے ریاستی سوگ میں داخل ہو چکا ہے۔ 

یہ صرف ایک رہنما کی تدفین نہیں بلکہ ایک ایسے شخص کو الوداع کہنے کا لمحہ ہے جس نے تقریباً چار دہائیوں تک ایران کی سیاست، خارجہ پالیسی، عسکری حکمت عملی اور مذہبی قیادت کو اپنی سوچ کے مطابق تشکیل دیا۔

ان کی آخری رسومات کو اسی لیے محض مذہبی تقریب نہیں بلکہ ایران کے مستقبل، اقتدار کی منتقلی اور خطے کی نئی سیاسی صف بندی کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ 

جنگ سے جنازے تک

آیت اللہ علی خامنہ ای فروری 2026 میں اس وقت شہید ہوئے جب ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کا آغاز ہوا۔ اس حملے نے نہ صرف ایرانی قیادت کو شدید دھچکا پہنچایا بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کو ایک ایسی جنگ میں دھکیل دیا جس کے اثرات کئی ماہ تک محسوس کیے جاتے رہے۔

جاری عسکری کارروائیوں، سلامتی کے خدشات اور فضائی حملوں کے باعث ان کی تدفین فوری طور پر ممکن نہ ہو سکی اور ریاستی رسومات کو مؤخر کرنا پڑا۔ 

بالآخر جنگ بندی کے ابتدائی معاہدے اور نسبتاً پرامن ماحول کے بعد ایرانی حکومت نے جولائی میں ہفتہ بھر پر محیط آخری رسومات کا اعلان کیا، جنہیں جدید ایرانی تاریخ کی سب سے بڑی ریاستی تقریبات میں شمار کیا جا رہا ہے۔

 

امام خمینی مصلیٰ؛ جہاں تاریخ لکھی جا رہی ہے

تہران کے وسیع و عریض امام خمینی مصلیٰ کو ان رسومات کا مرکز بنایا گیا ہے۔ یہی مقام اسلامی جمہوریہ کی بڑی مذہبی اور قومی تقریبات کا گواہ رہا ہے، مگر اس بار منظر مختلف ہے۔

ہزاروں رضا کار پھول سجا رہے ہیں، سکیورٹی اہلکار ہر داخلی راستے پر موجود ہیں جب کہ زائرین کے لیے خصوصی راہداریاں، طبی مراکز، رہائشی کیمپ اور ٹرانسپورٹ کا غیر معمولی انتظام کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق لاکھوں افراد پہلے ہی تہران پہنچ چکے ہیں جبکہ مجموعی طور پر ایک سے دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ ایران کی تاریخ کا سب سے بڑا ریاستی جنازہ ہوگا۔ 

ریاست کی پوری مشینری متحرک

سپاہ پاسداران انقلاب، پولیس، بلدیاتی ادارے، وزارتِ صحت، وزارتِ ٹرانسپورٹ اور دیگر سرکاری محکمے کئی روز سے ان تقریبات کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔

تہران میں خصوصی ٹریفک پلان نافذ کیا گیا ہے، سرکاری و نجی دفاتر بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے جب کہ ریلوے، بسوں اور پروازوں کا شیڈول بھی جنازے کے شرکا کی سہولت کے مطابق تبدیل کیا گیا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ماضی کے بڑے جنازوں میں پیش آنے والے ہجوم اور بھگدڑ جیسے واقعات سے سبق سیکھتے ہوئے اس مرتبہ غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔

 

دنیا کی نظریں تہران پر

ایران نے اعلان کیا ہے کہ تقریباً 30 ممالک کے سرکاری وفود ان رسومات میں شریک ہوں گے۔ مختلف ممالک کے صدور، وزرائے اعظم، پارلیمانی سربراہان، وزرائے خارجہ اور مذہبی شخصیات کی آمد متوقع ہے جب کہ سیکڑوں غیر ملکی صحافی اس تاریخی موقع کی کوریج کر رہے ہیں۔ 

تجزیہ کاروں کے مطابق غیر ملکی شخصیات کی موجودگی جتنی اہم ہوگی، بعض ممالک کی عدم موجودگی بھی اتنی ہی سیاسی اہمیت رکھے گی، کیونکہ یہ تقریب صرف سوگواری نہیں بلکہ عالمی سفارت کاری کا بھی ایک اہم منظرنامہ بن چکی ہے۔ 

صرف ایران نہیں، پوری شیعہ دنیا کی تقریب

سرکاری شیڈول کے مطابق تہران میں عوامی دیدار اور نمازِ جنازہ کے بعد میت کو قم لے جایا جائے گا، پھر عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا میں بھی تشییعی جلوس نکالے جائیں گے اور آخرکار مشہد میں واقع امام رضاؑ کے روضے کے احاطے میں تدفین ہوگی۔

یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ایرانی سپریم لیڈر کی آخری رسومات کو بیک وقت ایران اور عراق کے اہم مذہبی مراکز سے جوڑا جا رہا ہے، جسے مبصرین ایران کی مذہبی اور سیاسی علامتوں کو سرحدوں سے آگے لے جانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔

نمازِ جنازہ کون پڑھائے گا؟

یہ ایک ایسا سوال جس کا جواب تاحال نہیں ملا، آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا سب سے اہم اور حساس سوال یہی ہے کہ ان کی نمازِ جنازہ کی امامت کون کرے گا؟ بظاہر یہ ایک مذہبی معاملہ دکھائی دیتا ہے، مگر ایران جیسے مذہبی و سیاسی نظام میں اس فیصلے کے دور رس سیاسی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔

ایرانی حکام نے اب تک نمازِ جنازہ پڑھانے والی شخصیت کا باضابطہ اعلان نہیں کیا۔ اس خاموشی نے مختلف قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق اگر نمازِ جنازہ کسی سینئر مرجعِ تقلید یا مجلس خبرگان کے اہم رکن کی امامت میں ادا ہوتی ہے تو اسے نظام کے اندر اجتماعی قیادت کا پیغام سمجھا جائے گا، جب کہ اگر یہ ذمہ داری براہِ راست مجتبیٰ خامنہ ای کو دی جاتی ہے تو اس کے سیاسی معنی بالکل مختلف ہوں گے۔

شیعہ روایت میں نمازِ میت کی امامت صرف ایک مذہبی عمل نہیں بلکہ مرنے والے کے مقام، اس کے جانشین اور ریاستی بیانیے کی عکاسی بھی سمجھی جاتی ہے۔ اسی لیے ایران سمیت پوری شیعہ دنیا کی نظریں اس اعلان پر مرکوز ہیں۔

مجتبیٰ خامنہ ای کی پراسرار غیر موجودگی

ان آخری رسومات کا دوسرا سب سے زیادہ زیرِ بحث پہلو آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے اور ایران کے موجودہ رہنما مجتبیٰ خامنہ ای کی عدم موجودگی ہے۔

سپریم لیڈر منتخب ہونے کے بعد وہ عوامی سطح پر بہت کم دکھائی دیے ہیں، جب کہ جنگ کے دوران بھی ان کی صحت اور سکیورٹی سے متعلق متضاد اطلاعات سامنے آتی رہیں۔

سرکاری تقریب کے منتظمین نے اس بارے میں کوئی واضح مؤقف اختیار نہیں کیا۔ صرف اتنا کہا گیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی شرکت یا عدم شرکت سے متعلق اعلان تقریب کی انتظامیہ نہیں بلکہ رہبرِ انقلاب کے دفتر یا متعلقہ ریاستی ادارے کریں گے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر وہ نمازِ جنازہ یا تدفین میں پہلی مرتبہ عوام کے سامنے آتے ہیں تو یہ محض اپنے والد کو الوداع کہنا نہیں ہوگا بلکہ نئی قیادت کے عوامی تعارف اور اقتدار کے تسلسل کا بھی ایک مضبوط اشارہ ہوگا۔

دوسری جانب اگر وہ تقریب سے دور رہتے ہیں تو اس کے پس منظر میں سکیورٹی خدشات، صحت کے مسائل یا سیاسی حکمتِ عملی جیسے عوامل بھی ہو سکتے ہیں۔

امام رضاؑ کے روضے میں تدفین کیوں؟

سرکاری منصوبے کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کو نو جولائی کو ایران کے مقدس شہر مشہد میں آٹھویں امام حضرت امام علی رضاؑ کے روضے کے احاطے میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

اس فیصلے کی کئی مذہبی اور تاریخی وجوہات بیان کی جا رہی ہیں۔ سب سے پہلی وجہ یہ ہے کہ مشہد آیت اللہ خامنہ ای کا آبائی شہر بھی ہے۔ ان کی ابتدائی زندگی، دینی تعلیم اور انقلابی سرگرمیوں کا بڑا حصہ اسی شہر سے وابستہ رہا۔

دوسری وجہ امام رضاؑ کا روضہ ہے، جو شیعہ مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ ہر سال دنیا بھر سے کروڑوں زائرین یہاں حاضری دیتے ہیں۔ ایسے مقام پر تدفین کسی بھی مذہبی شخصیت کے لیے غیر معمولی اعزاز تصور کی جاتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس فیصلے کے ذریعے ایرانی قیادت ایک علامتی پیغام بھی دینا چاہتی ہے کہ علی خامنہ ای کی شخصیت صرف ایک سیاسی رہنما تک محدود نہیں تھی بلکہ انہیں شیعہ مذہبی تاریخ کے تسلسل میں بھی دیکھا جائے۔

سات روزہ آخری رسومات کی مکمل ٹائم لائن

3 جولائی کو بین الاقوامی خراجِ عقیدت کی تقریب، غیر ملکی وفود کی آمد اور امام خمینی مصلیٰ میں تابوت کی منتقلی ہوگی۔ 4 اور 5 جولائی کو تہران کے امام خمینی مصلیٰ میں عوامی دیدار، لاکھوں افراد کی شرکت اور مرکزی نمازِ جنازہ ہوگا۔

6 جولائی کو تہران میں تاریخی جنازے کا جلوس نکلے گا، جس کے لیے دارالحکومت کے مختلف راستوں کو خصوصی طور پر مختص کیا گیا ہے۔ 7 جولائی کو قم میں مذہبی رسومات، علماء کی شرکت اور خصوصی دعائیہ اجتماعات ہوں گے۔

8 جولائی کو نجف اور کربلا میں تشییعی جلوس، روضۂ حضرت علیؑ اور روضۂ امام حسینؑ پر حاضری اور عراقی عوام کی شرکت ہوگی۔ 9 جولائی کو مشہد میں امام رضاؑ کے روضے کے احاطے میں تدفین اور سرکاری طور پر آخری رسومات کا اختتام ہوگا۔

اس کے بعد ایران میں چالیس روزہ سوگ، مختلف صوبوں میں دعائیہ اجتماعات، کانفرنسیں اور یادگاری تقریبات بھی منعقد کی جائیں گی۔ یہ جنازہ صرف ایک تدفین نہیں، ایک سیاسی پیغام بھی ہے

تجزیہ کاروں کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کو صرف ایک مذہبی تقریب کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔

ایران اس وقت اقتدار کی منتقلی، علاقائی کشیدگی، معاشی دباؤ اور عالمی سفارتی چیلنجز سے گزر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں لاکھوں افراد کی شرکت حکومت کے لیے عوامی حمایت اور قومی اتحاد کا مظاہرہ بھی بن سکتی ہے۔

اسی طرح نجف، کربلا، قم اور مشہد جیسے مذہبی مراکز کو اس پروگرام کا حصہ بنانا ایران کے اس بیانیے کو تقویت دیتا ہے کہ اس کی مذہبی قیادت کی حیثیت صرف قومی نہیں بلکہ پوری شیعہ دنیا سے جڑی ہوئی ہے۔

بعض مبصرین کے مطابق یہ رسومات نئے سپریم لیڈر کے لیے عوامی قبولیت پیدا کرنے، ریاستی اداروں کے اتحاد کا اظہار کرنے اور دنیا کو یہ پیغام دینے کی کوشش بھی ہیں کہ قیادت کی تبدیلی کے باوجود ایرانی ریاست اپنے سیاسی اور مذہبی ڈھانچے کے ساتھ قائم ہے۔

البتہ دیگر تجزیہ کار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بڑے عوامی اجتماعات اپنی جگہ اہم ہوتے ہیں، مگر وہ خود بخود تمام سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل کا حل نہیں بنتے۔ ایران کے لیے اصل امتحان آخری رسومات کے بعد شروع ہوگا، جب نئی قیادت کو داخلی استحکام، علاقائی تعلقات اور عالمی سفارت کاری کے پیچیدہ چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔