افغان میڈیا کے مطابق نئے حکم نامے کے تحت کسی بھی مشتبہ شخص کو زیادہ سے زیادہ 10 دن تک حراست میں رکھا جا سکے گا، جب کہ اس سے قبل یہ مدت صرف 72 گھنٹے تھی۔

افغان میڈیا کے مطابق فرمان میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ عدالت کے حکم کے بغیر کسی زیرِ حراست شخص کو رہا نہیں کیا جا سکتا۔

اس سے قبل پولیس کے پاس اختیار تھا کہ اگر کسی مقدمے میں استغاثہ کو بھیجنے کے لیے شواہد ناکافی ہوں تو مشتبہ فرد کو رہا کیا جا سکتا تھا، اسی طرح استغاثہ کے پاس 15 دن کے اندر زیرِ حراست افراد کو رہا کرنے کا اختیار بھی تھا۔

افغان میڈیا کے مطابق یہ طریقہ کار سابق افغان حکومت کے پینل کوڈ کی شق 88 میں درج تھا، جس کے تحت اگر قانون کے مطابق حراست ضروری نہ سمجھی جاتی تو استغاثہ مشتبہ شخص کی فوری رہائی کا حکم دیتا تھا۔

تاہم، طالبان کے زیرِ انتظام وزارتِ انصاف کی ویب سائٹ پر شائع معلومات کے مطابق سابقہ پینل کوڈ کو اب مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔