شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کے مطابق حکمران ورکرز پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کم جونگ اُن نے کہا کہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی، علاقائی تنازعات اور بڑی طاقتوں کے درمیان مسابقت نے سیکیورٹی کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس کے پیش نظر شمالی کوریا اپنی دفاعی حکمت عملی کو مزید مؤثر اور مضبوط بنا رہا ہے۔

کم جونگ اُن نے امریکا اور جنوبی کوریا کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ دونوں ممالک مسلسل اپنی عسکری شراکت داری کو وسعت دے رہے ہیں اور خطے میں فوجی سرگرمیوں کے ذریعے کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں،  ایسے اقدامات شمالی کوریا کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں، جس کا جواب دینے کے لیے ملک کو اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہوگا۔

شمالی کوریائی رہنما نے واضح کیا کہ جوہری قوت کو وسعت دینا اور جدید ہتھیاروں کی تیاری میں تیزی لانا ریاستی پالیسی کا اہم حصہ ہے،  جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاست کی حیثیت کو مزید مضبوط بنانا ہی موجودہ عالمی حالات کا مناسب اور مؤثر جواب ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے مختلف خطوں میں جاری تنازعات اور خونریز جنگیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ طاقت کا توازن برقرار رکھنا ہر ملک کی بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔ کم جونگ اُن نے دعویٰ کیا کہ بعض عالمی طاقتوں کی بالادستی کی پالیسیوں کے باعث بین الاقوامی امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

اجلاس کے دوران کم جونگ اُن نے روایتی فوجی قوت کو بھی جدید بنانے کی ہدایت جاری کی۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق انہوں نے جدید جنگی سازوسامان، اسٹریٹجک میزائل نظام اور بڑے بحری جنگی جہازوں کی تیاری کے منصوبوں پر کام تیز کرنے کا حکم دیا۔ اس سلسلے میں 10 ہزار ٹن وزنی اسٹریٹجک گائیڈڈ میزائل کروزر کی تعمیر کو بھی اہم قومی منصوبہ قرار دیا گیا۔

سیاسی اور دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ کم جونگ اُن کے حالیہ بیانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ شمالی کوریا جوہری تخفیفِ اسلحہ سے متعلق کسی بھی ممکنہ مذاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتا اور خود کو مستقل طور پر ایک جوہری طاقت کے طور پر منوانا چاہتا ہے۔

واضح رہے کہ  پیانگ یانگ کا مؤقف اب پہلے سے زیادہ واضح ہو چکا ہے کہ مستقبل میں اگر کوئی مذاکرات ہوتے بھی ہیں تو وہ جوہری پروگرام کے خاتمے کے بجائے ہتھیاروں کے محدود کنٹرول یا علاقائی سلامتی کے معاملات پر مرکوز ہوں گے۔

مزید پڑھیں: کیئر اسٹارمر نے ایران جنگ میں امریکا کا ساتھ نہیں دیا: ڈونلڈ ٹرمپ کی تنقید

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا اپنی جوہری صلاحیت کو قومی سلامتی کی ضمانت سمجھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی پابندیوں اور سفارتی دباؤ کے باوجود اس نے اپنے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو جاری رکھا ہوا ہے۔

واضح رہے کہ شمالی کوریا 2006 سے اب تک متعدد جوہری تجربات اور میزائل لانچز کر چکا ہے، جس کے باعث اقوام متحدہ اور مغربی ممالک کی جانب سے اس پر سخت اقتصادی اور تجارتی پابندیاں عائد کی گئیں۔ تاہم پیانگ یانگ مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ قومی دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

اجلاس میں توانائی کے شعبے کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی۔ کم جونگ اُن نے ملک کی کوئلہ صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے، معدنی وسائل کے بہتر استعمال اور توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے جامع اقدامات کی ہدایت کی۔ حکام کے مطابق توانائی کا شعبہ آئندہ برسوں میں شمالی کوریا کی اقتصادی پالیسی کا اہم ستون ہوگا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے جوہری اور فوجی صلاحیتوں میں اضافے کے اعلان کے بعد خطے میں سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ سکتے ہیں، جبکہ امریکا، جنوبی کوریا اور ان کے اتحادی ممالک اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔