سرکاری میڈیا کے مطابق کم جونگ اُن نے ایک میزائل فیکٹری کا دورہ کرتے ہوئے کہا کہ کوریائی فوج کی بدلتی ہوئی عملی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے میزائلوں کی پیداوار بڑھانا ناگزیر ہے۔
سرکاری ذرائع سے جاری تصاویر میں کم جونگ اُن کو درجنوں ہواسانگ-11 مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کا معائنہ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق یہ میزائل شمالی کوریا کی دفاعی حکمت عملی میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ کم جونگ اُن اس سے قبل دعویٰ کر چکے ہیں کہ ان میزائلوں کو جوہری وارہیڈز سے لیس کیا جا سکتا ہے اور یہ جنوبی کوریا سمیت خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
North Korea has released photos of Kim Jong Un inspecting huge munitions at a weapons factory ahead of Chinese president Xi Jinping’s visit. Pyongyang has ordered missile production capacity to be doubled in the next five years. pic.twitter.com/pnf4gWl5iD
— Al Jazeera English (@AJEnglish) June 7, 2026
سرکاری میڈیا کے مطابق شمالی کوریا نے حالیہ مہینوں کے دوران ہواسانگ-11 میزائل سیریز کی صلاحیتوں میں مزید تنوع پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کوششوں میں کلسٹر گولہ بارود، بجلی کے نظام کو مفلوج کرنے والے بم اور چھروں والے وارہیڈز سے لیس مختلف اقسام کے میزائلوں کی آزمائش شامل ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ میزائل سیریز شمالی کوریا کی جانب سے اسلحے کی برآمدات کے ذریعے غیر ملکی زرِ مبادلہ حاصل کرنے کی حکمت عملی میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق ہواسانگ-11 اے (کے این-23) اور ہواسانگ-11 بی (کے این-24) میزائل، جو مبینہ طور پر روس کو فراہم کیے گئے، یوکرین میں مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔







