عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کم جونگ اُن کی قیادت میں شمالی کوریا نے گزشتہ چند برسوں میں سائبر کارروائیوں اور ہیکنگ کو غیر ملکی زرمبادلہ کمانے کا اہم ذریعہ بنا لیا ہے، کیونکہ اس کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرامز کی وجہ سے اس پر سخت عالمی پابندیاں عائد ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2025 کے پہلے نو ماہ کے دوران شمالی کوریا نے کم از کم ایک ارب 65 کروڑ ڈالرز چوری کیے، جن میں سے ایک ارب 40 کروڑ ڈالر صرف فروری میں کرپٹو ایکسچینج کمپنی بائی بٹ سے چرائے گئے۔یہ رقم 2024 کی غیر قانونی کرپٹو آمدنی (1.2 ارب ڈالرز) سے بھی زیادہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا کے اہلکاروں نے "اسٹیبل کوائن" نامی کرپٹو کرنسی کے ذریعے اسلحے اور خام مال (جیسے تانبے) کی خرید و فروخت کی۔
شمالی کوریا نے اقوامِ متحدہ کی پابندیوں سے بچنے کے لیے اپنے آئی ٹی ورکرز کو کم از کم آٹھ ممالک — چین، روس، لاؤس، کمبوڈیا، ایکویٹوریل گنی، گنی، نائیجیریا اور تنزانیہ میں بھیجا اور وہ روس میں 40 ہزار مزدور بھیجنے کا منصوبہ رکھتا ہے جن میں کئی آئی ٹی ماہرین شامل ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے قوانین کے مطابق شمالی کوریا کے شہریوں کو بیرونِ ملک روزگار کی اجازت نہیں، لیکن رپورٹ میں کہا گیا کہ روس کے ساتھ گہرے تعلقات کے باعث پیانگ یانگ کو ان پابندیوں سے استثنا حاصل رہا ہے، خاص طور پر جب اس نے روس کو یوکرین جنگ کے دوران اسلحہ اور فوجی افرادی قوت فراہم کی۔
امریکی تھنک ٹینک 38 نارتھ کی سابقہ رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا کے آئی ٹی ماہرین نے اپنی شناخت چھپاتے ہوئے اینی میشن منصوبوں پر کام حاصل کیا، جن کی نگرانی امیزون اور ایچ بی او میکس جیسی بڑی کمپنیوں نے کی۔
امیزون کے ترجمان کے مطابق کمپنی نے براہِ راست ایسے کسی ماہر کو ملازم نہیں رکھا بلکہ ایک اسٹوڈیو کے ساتھ معاہدہ کیا تھا جس نے ذیلی ٹھیکیداروں کے ذریعے شمالی کوریائی ورکرز کی خدمات حاصل کیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ شمالی کوریا کے اینیمیٹرز نے اپنے سرکاری اسٹوڈیو ایس ای کے کے ذریعے بھی کام کیا، جو ماضی میں "دی سمپسنز مووی" (2007) جیسے مغربی منصوبوں میں شامل رہا ہے۔
جنوبی کوریا کی انٹیلی جنس ایجنسی کے مطابق شمالی کوریا کے ایجنٹس نے لنکڈ اِن پر جعلی بھرتی کنندگان بن کر جنوبی کوریائی دفاعی کمپنیوں کے ملازمین سے حساس معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔
ایم ایس ایم ٹی، جو اکتوبر 2024 میں قائم کی گئی تھی، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کی خلاف ورزیوں کی نگرانی کرتی ہے۔ اگرچہ یہ براہِ راست اقوامِ متحدہ سے منسلک نہیں، مگر اس کے رکن ممالک میں امریکا، برطانیہ، جنوبی کوریا، جاپان، فرانس، جرمنی، اٹلی، آسٹریلیا، کینیڈا، نیدرلینڈز اور نیوزی لینڈ شامل ہیں۔






