برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جنوبی کورین فوج کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے جمعرات کو جزیرہ نما کوریا کے مشرقی ساحل کی جانب سمندر میں مختصر فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل فائر کیا۔
جاپان کی حکومت نے بھی تصدیق کی ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے داغا گیا میزائل بظاہر بیلسٹک نوعیت کا تھا۔
رپورٹ کے مطابق یہ تجربہ رواں سال شمالی کوریا کی جانب سے کیے جانے والے متعدد ہتھیاروں کے تجربات کا تسلسل ہے، جن میں مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل، راکٹ اور دیگر ٹیکٹیکل ہتھیار شامل ہیں۔
جنوبی کوریا کی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ مزید ممکنہ میزائل تجربات کے خدشے کے پیش نظر نگرانی اور دفاعی تیاریوں کو مزید سخت کر دیا گیا ہے، جبکہ امریکا اور جاپان کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ بھی جاری ہے۔
رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا کا آخری تصدیق شدہ ہتھیاروں کا تجربہ جون کے آخر میں سامنے آیا تھا، جس میں ملٹی پل لانچ راکٹ سسٹم، ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل اور خودکار ہووٹزر کا تجربہ کیا گیا تھا۔
کیونگ نام یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار فار ایسٹرن اسٹڈیز کے پروفیسر لیم ایول چُل کے مطابق حالیہ میزائل تجربہ شمالی کوریا کی رہنما کم جونگ اُن کی بہن کم یو جونگ کے حالیہ بیانات سے بھی منسلک ہو سکتا ہے، جن میں انہوں نے جاپان کی فوجی سرگرمیوں اور ٹام ہاک میزائل کے تجربات پر تنقید کی تھی۔
ماہرین کے مطابق یہ میزائل تجربہ جنوبی کوریا اور امریکا کے درمیان جلد متوقع مشترکہ فوجی مشقوں سے قبل ایک سیاسی اور عسکری پیغام بھی تصور کیا جا رہا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔







