فنانشل ٹائمز کے مطابق سعودی مرکزی بینک نے بتایا ہے کہ سعودی عرب نے 13 مئی 2025 کو ایم برج میں اپنی شرکت ختم کی، جب وہ اس منصوبے کے تحت پہلے سے طے شدہ ’پروف آف کانسیپٹ‘ مرحلہ مکمل کرچکا تھا۔ تاہم یہ فیصلہ تقریباً ایک سال بعد منظرعام پر آیا ہے۔
سعودی عرب جون 2024 میں ایم برج کے مکمل شریک کے طور پر منصوبے میں شامل ہوا تھا۔ اس وقت بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے مطابق منصوبے کا مقصد مختلف مرکزی بینک ڈیجیٹل کرنسیوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جوڑ کر تیز اور کم لاگت سرحد پار ادائیگیوں کی سہولت فراہم کرنا تھا۔
ایم برج کیا ہے؟
ایم برج ایک تھوک سطح کا ملٹی سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی پلیٹ فارم ہے، جس میں بلاک چین سے ملتی جلتی ڈسٹری بیوٹڈ لیجر ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے۔
اس کا مقصد مرکزی اور کمرشل بینکوں کو مختلف ممالک کی ڈیجیٹل کرنسیوں کے ذریعے براہِ راست سرحد پار ادائیگی اور زرمبادلہ کے لین دین کی سہولت دینا ہے۔ اس نظام سے روایتی درمیانی بینکوں کی طویل زنجیر کم کرکے ادائیگیوں کی رفتار اور کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کی گئی۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ ایم برج کوئی ایسی ڈیجیٹل کرنسی یا سکہ نہیں جسے عام صارف خرید یا اپنے ڈیجیٹل والٹ میں رکھ سکے۔ یہ بنیادی طور پر مرکزی اور کمرشل بینکوں کے لیے ادائیگیوں کا بنیادی ڈھانچہ ہے۔
کن ممالک نے حصہ لیا؟
ایم برج منصوبے میں چین، ہانگ کانگ، تھائی لینڈ اور متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک اور مالیاتی ادارے بنیادی شراکت دار رہے، جب کہ سعودی مرکزی بینک 2024 میں مکمل شریک کے طور پر شامل ہوا۔
بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹس نے 2024 میں اعلان کیا تھا کہ ایم برج کم از کم قابلِ عمل مرحلے یعنی منی مم وائی ایبل پراڈکٹ تک پہنچ چکا ہے اور حقیقی مالیت کے لین دین کے لیے بھی پلیٹ فارم تیار کیا جا چکا ہے۔
بعد ازاں اکتوبر 2024 میں بی آئی ایس نے اعلان کیا کہ وہ منصوبے سے ’گریجویٹ‘ ہو رہا ہے اور اسے باقی شراکت داروں کے حوالے کیا جا رہا ہے۔
بی آئی ایس کے مطابق اس کا انخلا منصوبے کی ناکامی یا سیاسی وجوہات کی بنیاد پر نہیں تھا بلکہ اس کے خیال میں منصوبہ اس مرحلے تک پہنچ چکا تھا جہاں دیگر شراکت دار اسے خود آگے بڑھا سکتے تھے۔
کیا ایم برج ڈالر کا متبادل بن سکتا ہے؟
ایم برج کا ڈیزائن سرحد پار ادائیگیوں میں روایتی نظام کے مقابلے میں کم لاگت اور زیادہ تیز تصفیے کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس نوعیت کے پلیٹ فارم میں بعض لین دین کو براہِ راست مرکزی بینک کی ڈیجیٹل کرنسی میں طے کیا جا سکتا ہے، جس سے ڈالر کو درمیانی کرنسی کے طور پر استعمال کرنے کی ضرورت بعض صورتوں میں کم ہوسکتی ہے۔
تاہم اسے ڈالر کے خاتمے یا عالمی مالیاتی نظام کی فوری تبدیلی کا ثبوت قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ ایم برج خود بھی کسی مشترکہ عالمی کرنسی کے طور پر تشکیل نہیں دیا گیا تھا۔
بی آئی ایس نے ماضی میں ان دعوؤں کی تردید کی تھی کہ یہ منصوبہ برکس ممالک کے لیے بنایا گیا یا پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔
سعودی عرب کی علیحدگی کی وجہ کیا ہے؟
سعودی مرکزی بینک کے مطابق اس کی شرکت ایک پہلے سے طے شدہ تحقیقی پروگرام کا حصہ تھی اور مطلوبہ تجرباتی مرحلہ مکمل ہونے کے بعد سعودی عرب نے اپنی باضابطہ رکنیت ختم کردی۔
فنانشل ٹائمز نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ ایک ذریعے کے مطابق سعودی مرکزی بینک منصوبے سے مکمل طور پر لاتعلق نہیں ہوا اور غیر رسمی سطح پر اس سے منسلک رہ سکتا ہے۔
سعودی عرب کی علیحدگی کو کسی مخصوص امریکی دباؤ، ڈیٹا گورننس تنازع یا چین کے ساتھ اختلاف کا نتیجہ قرار دینے کے لیے فی الحال واضح سرکاری ثبوت موجود نہیں۔
یوں سعودی عرب کا ایم برج سے باضابطہ انخلا ضرور تصدیق شدہ ہے، لیکن اس کے پسِ پردہ کسی بڑے جغرافیائی یا مالیاتی تنازع کو حتمی وجہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
ایم برج کی اہمیت کیوں ہے؟
دنیا کے مختلف مرکزی بینک ڈیجیٹل کرنسیوں اور بلاک چین پر مبنی ادائیگیوں کے نظام پر تجربات کر رہے ہیں۔ ایم برج اسی کوشش کا ایک اہم منصوبہ تھا، جس کا بنیادی مقصد سرحد پار ادائیگیوں میں رفتار، لاگت اور پیچیدگی کو کم کرنا تھا۔
سعودی عرب کا منصوبے سے الگ ہونا اس مخصوص پلیٹ فارم کی توسیع کے لیے اہم پیش رفت ضرور ہے، تاہم اسے عالمی سطح پر ڈالر کے مستقبل یا چین کی ڈیجیٹل کرنسی کے حوالے سے کسی حتمی فیصلے کے طور پر دیکھنا درست نہیں ہوگا۔







