یہ میزائل تجربہ جنوبی کوریا کے صدر کے چین روانگی سے چند گھنٹے قبل کیا گیا، جہاں ان کی قیادت کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر بھی تبادلۂ خیال متوقع ہے۔

عالمی خبرساں ادارے دی گارڈین کے مطابق جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے کہا ہے کہ مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 7 بج کر 50 منٹ پر دارالحکومت پیانگ یانگ کے علاقے سے متعدد بیلسٹک میزائل فائر کیے گئے۔ میزائل تقریباً 900 کلومیٹر تک پرواز کرتے رہے، جب کہ جنوبی کوریا اور امریکا ان تجربات کی تفصیلات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

جنوبی کوریا کی فوج نے کہا کہ وہ شمالی کوریا کی کسی بھی اشتعال انگیزی کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور امریکا و جاپان کے ساتھ میزائل لانچ سے متعلق معلومات کا قریبی تبادلہ جاری ہے۔

لانچ کے بعد سیول میں نیشنل سکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا۔ صدارتی دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی اور ایک اشتعال انگیز عمل ہے۔

جاپان کی وزارتِ دفاع نے بھی ایک ممکنہ بیلسٹک میزائل کی نشاندہی کی ہے۔ وزارت کے مطابق دو میزائل تقریباً 50 کلومیٹر کی بلندی تک گئے اور بالترتیب 900 اور 950 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔ جاپان کے وزیر دفاع شنجیرو کوئزومی نے کہا کہ شمالی کوریا کا جوہری اور میزائل پروگرام جاپان اور عالمی برادری کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے اور اسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

یہ پیانگ یانگ کی جانب سے نومبر کے بعد پہلا بیلسٹک میزائل تجربہ ہے، جب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی کوریا کے جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوز بنانے کے منصوبے کی منظوری دی تھی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا کی جانب سے ہفتے کے روز وینزویلا میں کی گئی فوجی کارروائی نے بھی شمالی کوریا کو یہ میزائل تجربہ کرنے پر آمادہ کیا ہو سکتا ہے۔ کوریا انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل یونفیکیشن کے تجزیہ کار ہونگ من کے مطابق پیانگ یانگ کو خدشہ ہے کہ امریکا کسی بھی وقت درست نشانے پر حملہ کر سکتا ہے، جو اس کی حکومت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

یہ میزائل تجربہ جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ کے بیجنگ کے دورے سے چند گھنٹے قبل سامنے آیا، جہاں وہ چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے۔ چین شمالی کوریا کا اہم معاشی حامی ہے اور جنوبی کوریا امید رکھتا ہے کہ وہ بیجنگ کے اثر و رسوخ کو پیانگ یانگ سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے استعمال کر سکے گا۔

ادھر شمالی کوریا میں حکمران جماعت کی آئندہ ہفتوں میں ایک اہم کانگریس بھی متوقع ہے، جو پانچ سال بعد منعقد ہو رہی ہے۔ اس اجلاس میں معاشی پالیسی، دفاع اور فوجی منصوبہ بندی سرفہرست ایجنڈا ہوں گے۔

اس سے قبل شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے میزائل پیداوار میں توسیع اور جدید کاری کا حکم دیا تھا۔ سرکاری خبر رساں ادارے کے سی این اے کے مطابق کم جونگ اُن نے حال ہی میں ٹیکٹیکل گائیڈڈ ہتھیار بنانے والی ایک تنصیب کا دورہ کیا اور پیداوار میں 250 فیصد اضافے کی ہدایت دی۔