برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق بنگلہ دیش میں سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد کے خلاف مقدمے میں استغاثہ نے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں گزشتہ برس طلبہ کی قیادت میں ہونے والے مظاہروں پر مبینہ بدترین کریک ڈاؤن کے الزام میں سزائے موت دی جائے۔

شیخ حسینہ جو اِن واقعات کے بعدانڈیا فرار ہو گئی تھیں اُن پر بنگلہ دیش میں انسانیت کے خلاف جرائم کا مقدمہ چل رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک لیک شدہ آڈیو کلپ میں شیخ حسینہ کو مبینہ طور پر سکیورٹی فورسز کو یہ ہدایت دیتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ وہ مظاہرین کے خلاف مہلک ہتھیار استعمال کریں اور جہاں دیکھیں گولی مار دیں۔ تاہم، شیخ حسینہ نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا تھا۔

اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کے مطابق، گزشتہ سال موسمِ گرما کے دوران ہونے والے ان مظاہروں میں تقریباً1400 افراد ہلاک ہوئے تھے، جب کہ شیخ حسینہ اور ان کی جماعت عوامی لیگ نے مظاہرین پر تشدد کے الزامات کی ہمیشہ تردید کی ہے۔

دوسری جانب، شیخ حسینہ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے مظاہرین کی پرتشدد کارروائیوں کے جواب میں گولی چلائی، اس لیے یہ اقدام قانونی دفاع کے زمرے میں آتا ہے۔

شیخ حسینہ کے ساتھ سابق وزیرِ داخلہ اسد الزمان خان کمال اور سابق پولیس چیف چودھری عبداللہ المامون کے خلاف بھی مقدمہ زیرِ سماعت ہے۔

یاد رہے کہ یہ احتجاجی تحریک اُس وقت شروع ہوئی جب سول سروس میں 1971 کی جنگِ آزادی میں لڑنے والوں کے رشتہ داروں کو دی جانے والی کوٹہ پالیسی کے خلاف طلبہ سڑکوں پر نکل آئے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ مظاہرے جلد ہی ایک وسیع سیاسی تحریک میں بدل گئے جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی 15 سالہ حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔

رپورٹس کے مطابق پانچ اگست کو تشدد کے سب سے شدید مناظر دیکھنے میں آئے، جب مشتعل مظاہرین نے ڈھاکہ میں وزیرِاعظم کی رہائش گاہ کا رخ کیااور اسی روز شیخ حسینہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے ملک چھوڑ کر انڈیاچلی گئیں۔