شیخ حسینہ واجد گزشتہ برس اگست 2024 میں ملک میں حکومت مخالف طلبہ تحریک، شدید عوامی احتجاج اور بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال کے بعد وزارتِ عظمیٰ سے مستعفی ہو کر بنگلادیش چھوڑنے پر مجبور ہو گئی تھیں۔ وہ ملک سے روانگی کے بعد بھارت پہنچیں، جہاں وہ اب تک مقیم ہیں۔
تقریباً دو سال کی خود ساختہ جلاوطنی کے بعد شیخ حسینہ نے ایک انٹرویو میں پہلی مرتبہ واضح انداز میں وطن واپسی کے ارادے کا اظہار کیا، وہ رواں سال بنگلادیش واپس آئیں گی اور اس مقصد کے حصول کے لیے درپیش تمام مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
Ousted Bangladesh PM Hasina vows to return home this year https://t.co/Q7F6SivfF1
— The Straits Times (@straits_times) June 29, 2026
سابق وزیراعظم نے اپنے بیان میں اس امید کا اظہار بھی کیا کہ ملک میں سیاسی حالات بہتر ہوں گے اور وہ اپنے عوام کے درمیان دوبارہ موجود ہوں گی۔ تاہم انہوں نے واپسی کی حتمی تاریخ یا اس حوالے سے کسی منصوبے سے متعلق معلومات فراہم نہیں کیں۔
واضح رہے کہ شیخ حسینہ کی ممکنہ واپسی بنگلادیش کی سیاست میں ایک نئی ہلچل پیدا کر سکتی ہے، کیونکہ ان کی روانگی کے بعد ملک کی سیاسی صورتحال میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں اور مختلف جماعتیں نئے سیاسی منظرنامے میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
یاد رہے کہ اگست 2024 میں ملک گیر احتجاج اور طلبہ تحریک کے دباؤ کے باعث شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا، جس کے بعد وہ بنگلادیش چھوڑ کر بھارت منتقل ہو گئی تھیں۔ ان کی وطن واپسی کے اعلان کو خطے کی سیاسی صورتحال کے تناظر میں بھی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔







