اقوامِ متحدہ میں قطر کی مستقل مندوب شیخ عالیہ احمد بن سیف الثانی نے بدھ کے روز کہا کہ ایران کی جانب سے خطے کے مختلف ممالک پر میزائل اور ڈرون حملے بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی واضح خلاف ورزی ہیں۔

نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے قطری سرزمین کو مسلسل نشانہ بنانا باہمی تعلقات کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو فوری کارروائی کرتے ہوئے اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔ اگر سلامتی کونسل نے اس معاملے پر ردعمل نہ دیا تو یہ ایک خطرناک پیغام ہوگا کہ غیر متعلقہ ہمسایہ ممالک پر حملوں کے کوئی نتائج نہیں نکلتے۔

ان کے بیان کے کچھ ہی دیر بعد سلامتی کونسل نے ایک قرارداد کے مسودے کے حق میں ووٹنگ کی جس میں جی سی سی کے رکن ممالک پر ایران کے حملوں کی مذمت کی گئی۔

خیال رہے کہ ایران نے 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں مختلف مقامات پر میزائل اور ڈرون حملے شروع کیے۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس کے حملوں کا ہدف امریکا اور اسرائیل سے وابستہ تنصیبات ہیں، تاہم ان حملوں سے شہری انفراسٹرکچر بھی متاثر ہوا ہے۔

ان حملوں کے باعث توانائی کی پیداوار متاثر ہوئی، جب کہ کئی ممالک میں پروازیں کئی دنوں تک معطل رہیں، خاص طور پر خلیجی ریاستوں میں صورتحال زیادہ سنگین رہی۔

امریکا کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد ایرانی حملوں میں اس کے آٹھ فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ اسرائیل، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین اور سعودی عرب سمیت خطے کے دیگر ممالک میں بھی ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ایران کے مختلف علاقوں میں 1255 افراد شہید ہو چکے ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں میں اسکولوں، اسپتالوں، تیل کی تنصیبات اور ہزاروں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔

بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کے باعث عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے اور کشیدگی کم کرنے کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں، تاہم جنگ میں کمی کے آثار فی الحال نظر نہیں آ رہے۔

ادھر خلیجی ممالک کے رہنماؤں اور ان کے مغربی اتحادیوں نے بھی ایران کے حملوں کی مذمت میں اضافہ کر دیا ہے، حالانکہ تہران کا کہنا ہے کہ اس کے حملوں کا ہدف صرف امریکی اور اسرائیلی مفادات ہیں۔

اسی دوران عمان کے سلطان ہیثم بن طارق السید نے ایرانی صدر مسعود ہزشکیان سے ٹیلیفونک گفتگو میں عمان کی سرزمین پر ہونے والے حملوں کی مذمت کی۔

مزید پڑھیں: ایران کا بحری و فضائی دفاعی نظام تباہ، جب چاہوں جنگ ختم کر سکتا ہوں: ڈونلڈ ٹرمپ

عمانی حکام کے مطابق سلالہ کی بندرگاہ پر واقع ایندھن کے ذخائر کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا جس سے نقصان تو ہوا لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

خطے کے دیگر ممالک میں بھی دفاعی کارروائیاں جاری رہیں۔ سعودی عرب کی وزارت دفاع کے مطابق اس کے فضائی دفاعی نظام نے شیبہ آئل فیلڈ کی جانب بڑھنے والے ایک ڈرون کو مار گرایا۔

اسی طرح یواےای کی وزارت دفاع نے بتایا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں جب کہ جنگی طیارے ڈرونز اور دیگر ہتھیاروں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

قطر نے بھی بدھ کے روز ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل حملوں کی تین مختلف کوششوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔