سیمینار میں مقررین نے زور دیا کہ پانی کو کسی بھی صورت سیاسی دباؤ، سفارتی ہتھیار یا تنازعات کے ذریعے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ بین الاقوامی قانون ریاستوں کے درمیان تعاون، معاہدوں کی پاسداری اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، نہ کہ یکطرفہ اقدامات یا دباؤ کی سیاست کی۔

شرکا نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ گزشتہ چھ دہائیوں سے جنوبی ایشیا میں آبی وسائل کی منصفانہ تقسیم، اعتماد سازی اور علاقائی استحکام کی ایک اہم بنیاد رہا ہے،  مختلف سیاسی اور سفارتی کشیدگی کے باوجود اس معاہدے کا برقرار رہنا اس کی مضبوط قانونی بنیادوں اور عالمی اہمیت کا واضح ثبوت ہے۔

سیمینار کے مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ سندھ طاس معاہدے میں آبی تنازعات کے حل کے لیے ایک مکمل قانونی اور ادارہ جاتی نظام موجود ہے، جس میں مستقل انڈس کمیشن، غیر جانبدار ماہرین اور بین الاقوامی ثالثی کے فورمز شامل ہیں،اگر کسی معاملے پر اختلاف پیدا ہو تو اس کا حل انہی قانونی طریقہ کار کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے، نہ کہ یکطرفہ فیصلوں یا اقدامات کے ذریعے۔

ماہرین نے کہا کہ بین الاقوامی معاہدوں کی اصل طاقت ان پر عمل درآمد، باہمی اعتماد اور قانونی ذمہ داریوں کی پاسداری میں ہوتی ہے۔ اگر کسی ایک معاہدے کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا گیا تو اس سے عالمی سطح پر دیگر بین الاقوامی معاہدوں پر اعتماد بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

شرکا نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا یا اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش بین الاقوامی قانون، عالمی اصولوں اور ریاستوں کے درمیان تعاون کے بنیادی تقاضوں سے متصادم ہے، مشترکہ آبی وسائل کے انتظام میں شفافیت، معلومات کا تبادلہ اور مسلسل رابطہ انتہائی ضروری ہے تاکہ ممکنہ تنازعات کو بروقت حل کیا جا سکے۔

سیمینار میں اظہار خیال کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ جنوبی ایشیا جیسے حساس خطے میں آبی تعاون صرف اقتصادی ضرورت نہیں بلکہ امن، استحکام اور علاقائی ترقی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام فریقین کو بین الاقوامی قوانین اور طے شدہ معاہدوں کی مکمل پاسداری کرنی چاہیے تاکہ مشترکہ وسائل کے استعمال سے متعلق اختلافات کشیدگی کے بجائے قانونی اور سفارتی ذرائع سے حل کیے جا سکیں۔

مزید پڑھیں: سندھ طاس معاہدہ برقرار رہے گا، کیونکہ یہی خطے میں امن، استحکام اور آبی تعاون کی بنیاد ہے، عطا اللہ تارڑ

شرکا نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سندھ طاس معاہدے کی قانونی حیثیت، سالمیت اور مؤثر عمل درآمد کا تحفظ تمام متعلقہ فریقوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے،  یہی معاہدہ جنوبی ایشیا میں آبی تعاون، علاقائی استحکام، بین الاقوامی قانون کی بالادستی اور پائیدار امن کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

سیمینار کے اختتام پر مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ مستقبل میں بھی پانی سے متعلق تمام تنازعات کو بین الاقوامی قوانین، مذاکرات، سفارتی ذرائع اور معاہدے میں موجود قانونی طریقہ کار کے مطابق حل کیا جانا چاہیے، کیونکہ یہی راستہ خطے میں اعتماد، تعاون اور دیرپا امن کو یقینی بنا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ  پاکستان کی معیشت، زرعی شعبہ، غذائی تحفظ اور لاکھوں افراد کا روزگار دریائے سندھ کے نظام سے وابستہ ہے، جبکہ ملک کی بڑی آبادی اپنی روزمرہ ضروریات کے لیے انہی آبی وسائل پر انحصار کرتی ہے، پانی کی فراہمی میں کسی بھی قسم کی غیر یقینی صورتحال نہ صرف زرعی پیداوار بلکہ قومی معیشت اور انسانی زندگی پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔