یونیسف کی جانب سے جاری بیان کے مطابق شمالی دارفور کے علاقے ام بارو میں اس ماہ اسکرین کیے گئے 500 بچوں میں سے 53 فیصد شدید غذائی قلت کا شکار پائے گئے، جب کہ ہر چھٹا بچہ شدید ترین غذائی قلت میں مبتلا ہے، جو ایک جان لیوا کیفیت ہے اور بروقت علاج نہ ملنے کی صورت میں چند ہفتوں میں موت کا سبب بن سکتی ہے۔

غیرملکی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے کہا کہ جب شدید غذائی قلت اس سطح تک پہنچ جائے تو وقت سب سے اہم عنصر بن جاتا ہے۔ ام بارو کے بچے اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور انہیں فوری مدد کی ضرورت ہے۔ ہر گزرتا دن، جس میں محفوظ رسائی ممکن نہیں، بچوں کے مزید کمزور ہونے اور قابلِ تدارک وجوہات سے موت کے خطرے کو بڑھا رہا ہے۔

یونیسف کے مطابق ام بارو میں موجود بڑی تعداد میں لوگ حالیہ ہفتوں میں دارفور کے شہر الفاشر سے نقل مکانی کر کے پہنچے ہیں، جہاں اکتوبر کے اواخر میں شدید لڑائی کے بعد صورتِ حال بگڑ گئی تھی۔

اندازوں کے مطابق اس دوران ایک لاکھ سے زائد افراد قحط زدہ شہر الفاشر سے فرار ہوئے۔ نقل مکانی کرنے والوں نے رپورٹ کیا کہ ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے جنگجوؤں کی جانب سے قتل، جنسی تشدد اور غیر قانونی حراست سمیت سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی گئیں۔

جمعے کے روز اقوام متحدہ کے ایک انسانی امدادی مشن کو دو سال بعد پہلی بار آر ایس ایف کے کنٹرول میں موجود شہر الفاشر تک رسائی دی گئی۔

سوڈان میں اقوام متحدہ کی رہائشی و انسانی امور کی رابطہ کار ڈینس براؤن نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ امدادی عملے نے شہر کو تقریباً ویران پایا۔ الفاشر ایک جرم کی جگہ معلوم ہوتا ہے، شہر میں بہت کم لوگ نظر آئے، جب کہ جو لوگ موجود تھے وہ خالی عمارتوں یا پلاسٹک شیٹس سے بنے عارضی کیمپوں میں رہ رہے تھے۔

انہوں نے زخمیوں اور ممکنہ طور پر حراست میں لیے گئے افراد کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا۔ آر ایس ایف کی جانب سے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ادھر آر ایس ایف دارفور میں کنٹرول مضبوط کرنے کے بعد مشرق کی جانب کردوفان کے علاقوں میں پیش قدمی کر رہی ہے، جہاں جنوبی کردوفان کے شہروں کدوگلی اور ڈلنگ کا محاصرہ جاری ہے، جس سے بھوک اور انسانی بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔

لازمی پڑھیں: طالبان کے اقتدار کے بعد افغانستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں، خواتین کے لیے ملک غیر محفوظ بن گیا: عالمی جریدہ

اقوام متحدہ کے حکام کے مطابق خشک موسم کے آغاز کے ساتھ ہی لڑائی میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل محمد خالد خیاری نے حالیہ سلامتی کونسل اجلاس میں کہا کہ ہر گزرتا دن بے پناہ تشدد اور تباہی لے کر آ رہا ہے، عام شہری ناقابلِ تصور تکالیف کا سامنا کر رہے ہیں اور اس کا کوئی فوری خاتمہ نظر نہیں آ رہا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے، جب کہ سوڈان کے وزیراعظم کامل ادریس نے سلامتی کونسل میں امن منصوبہ پیش کیا جس میں آر ایس ایف کو غیر مسلح کرنے کی تجویز شامل تھی، تاہم آر ایس ایف نے اس منصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔

سوڈانی فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان نے واضح کیا ہے کہ آر ایس ایف کو ہتھیار ڈالے بغیر کسی سیاسی حل کا امکان نہیں، جنگ کا خاتمہ اس وقت ہوگا جب ہتھیار رکھ دیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ 2023 میں شروع ہونے والی اس خانہ جنگی میں اب تک دسیوں ہزار افراد ہلاک، ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد بے گھر اور سوڈان کے کئی حصے قحط کا شکار ہو چکے ہیں، جسے اقوام متحدہ دنیا کا بدترین انسانی بحران قرار دے چکا ہے۔