سوڈانی وزیراعظم کامل ادریس نے عالمی نشریاتی ادارہ الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگر عالمی برادری نے ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے خلاف کوئی مناسب قدم نہ اٹھایا تو اس دہشتگردی کے اثرات سوڈان کی سرحدوں سے باہر بھی پھیل سکتے ہیں۔
کامل ادریس نے کہا کہ دنیا بھر میں آر ایس ایف کے ان اقدامات کی مذمت کی گئی ہے، لیکن یہ مذمتیں اب کافی نہیں ہیں، کیوں کہ اب خطرہ صرف سوڈان کو ہی نہیں بلکہ یہ افریقہ اور پوری دنیا کی سلامتی کے استحکام کو خطرے میں ڈال دے گا۔عالمی برادری کی جانب سے ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے اقدامات کی مذمت کی گئی ہے، لیکن اب یہ مذمتیں کافی نہیں ہیں۔اب اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ آر ایس ایف کو دہشت گرد گروپ کے طور پر نامزد کیا جائے۔
سوڈانی وزیراعظم کا یہ بیان آر ایس ایف کی جانب سے "دارفور "کے علاقے میں سوڈانی فوج کے گڑھ "الفشر" پر گزشتہ ہفتے قبضہ کرنے کے بعد آیا ہے۔
سوڈانی وزیراعظم کے آر ایس ایف کے خلاف اس بیان کے بعد مظالم میں مزید اضافہ دیکھا گیا ہے۔ آر ایس ایف کے حملوں میں زندہ بچ جانے والوں کے مطابق کامل ادریس کے اس بیان نے عام شہریوں کے بڑے پیمانے پر قتل، پر پھانسی، جنسی زیادتیوں اور دیگر مظالم کو بھی جنم دیاہے۔
سوڈانی ڈاکٹرز نیٹ ورک کی جانب سے آر ایس ایف کے قبضہ کے ابتدائی چند دنوں میں مرنے والوں کی تعداد 15 سو بتائی گئی ہے جبکہ تجزیہ کاروں نے مرنے والوں کی تعداد زیادہ ہونے کا انکشاف کیا ہے۔ بدھ کے روز سیٹلائٹ کی مدد سے حاصل کی جانے والی تصاویر میں یہ دیکھا جا سکتا ہے شہریوں کو دفن کرنے کےلیے اجتماعی قبریں کھودی جا رہی ہیں۔
انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم) کے مطابق 80 ہزار سے زائد لوگ شہر اور اس کے آس پاس کے علاقوں سے نقل مکانی کر چکے ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق گزشتہ ہفتے سے لاکھوں شہری پھنسے ہوئے ہیں۔
سوڈان کی شمالی ریاست میں شہریوں کی پناہ کےلیے قائم کردہ "الدبہ " کیمپ میں "نجوا" نامی ایک بے گھر خاتون نےالجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ آر ایس ایف حملوں کے باعث جب ہم "الفشر" کو چھوڑ کرجارہے تھے تو آر ایس ایف کے اراکین میرے شوہر کو زبردستی پکڑ کر لے گئے اور پھر اس کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ ہمارے لیے یہ بہت افسوسناک تھا لیکن ہم کچھ نہیں کرسکتے تھے۔ ہم نے انسے گزارش بھی کی کہ ان کو چھوڑ دو لیکن وہ میرے شوہر کو خون میں لت پت اور بےحوشی کی حالت میں لےگئے، مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ اب وہ زندہ بھی ہیں یا مرگئے ہیں۔







