قطری خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق صومالیہ سے علیحدگی اختیار کرنے والے صومالی لینڈ نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے کہ اس نے تسلیم کیے جانے کے بدلے اسرائیلی فوجی اڈے قائم کرنے اور غزہ سے بے گھر فلسطینیوں کو آباد کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
صومالی لینڈ کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں ان اسرائیلی دعوؤں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ صومالی لینڈ کے روابط صرف سفارتی نوعیت کے ہیں اور یہ بین الاقوامی قوانین کے مکمل احترام کے ساتھ قائم کیے گئے ہیں۔
The Government of the Republic of Somaliland firmly rejects false claims made by the President of Somalia alleging the resettlement of Palestinians or the establishment of military bases in Somaliland.
— MFA Somaliland (@somalilandmfa) January 1, 2026
یہ وضاحت صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود کے بیانات کے بعد سامنے آئی، جنہوں نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ صومالی لینڈ نے اسرائیل کی جانب سے تسلیم کیے جانے کے بدلے تین شرائط قبول کیں۔
ان کا دعویٰ تھا کہ ان تین شرائط میں فلسطینیوں کی آبادکاری، خلیجِ عدن کے ساحل پر اسرائیلی فوجی اڈے کا قیام اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت شامل ہے۔
صومالی لینڈ کے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ فلسطینیوں کی آبادکاری یا فوجی اڈوں کے حوالے سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی، تاہم انہوں نے اس امکان کو مکمل طور پر رد بھی نہیں کیا۔البتہ تیسری شرط، یعنی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت کو عوامی سطح پر تسلیم کیا جا چکا ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو نے بھی امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں تصدیق کی تھی کہ صومالی لینڈ ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہوگا۔
اسرائیلی وزیراعظم کے بقول ہم ایک جمہوری اور معتدل مسلم ملک کی حمایت کرنا چاہتے ہیں جو ان معاہدوں میں شامل ہونے کا خواہاں ہے۔
Somaliland has rejected accusations that it agreed to host Israeli military facilities and resettle displaced Palestinians from Gaza in exchange for recognition by Israel. https://t.co/C2qBhc5THv
— Al Jazeera English (@AJEnglish) January 1, 2026
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے اسرائیل نے صومالی لینڈ کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا، جس کے بعد وہ ایسا کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا۔
یہ پیش رفت صومالی لینڈ کی تین دہائیوں پر محیط عالمی تسلیم شدگی کی کوششوں میں ایک بڑی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔
خیال رہے کہ صومالی لینڈ بحیرۂ احمر کے دہانے پر واقع ہے اور یمن کے حوثیوں کے مقابل ہے۔ اس کی یہ جغرافیائی حیثیت اسرائیل کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔
ایک اسرائیلی تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق صومالی لینڈ کا علاقہ حوثیوں کی نگرانی اور ان کے خلاف کارروائیوں کے لیے اگلے مورچے کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کیے جانے کے بعد صومالیہ بھر میں شدید احتجاج دیکھنے میں آیا، جہاں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور ملکی وحدت کے حق میں نعرے لگائے۔
افریقی یونین، یورپی یونین اور دنیا کے 50 سے زائد ممالک نے بھی اسرائیل کے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے صومالیہ کی علاقائی خودمختاری کے احترام پر زور دیا۔
Somaliland’s FM rejected allegations by Somalia’s president that it has agreed to host Israeli military bases and accept the forcible resettlement of Palestinians from Gaza in exchange for recognition by Israel.
— Al Jazeera English (@AJEnglish) January 1, 2026
🟥 Read Analysis: https://t.co/fk4bxupREw pic.twitter.com/aXwnjB8KS9
اس تمام ردِعمل کے باوجود صومالی لینڈ کے صدر عبدالرحمٰن محمد عبداللہ (سِرو) نے نئے سال کے موقع پر اعتماد ظاہر کیا کہ مستقبل قریب میں مزید ممالک بھی صومالی لینڈ کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیں گے۔
واضح رہے کہ صومالی لینڈ نے 1991 میں خانہ جنگی کے دوران صومالیہ سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا اور اس کے بعد سے وہ اپنی حکومت، کرنسی اور فوج رکھتا ہے، تاہم اب تک اسے عالمی سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا اور صومالیہ بدستور اس خطے کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے۔







