ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مذاکرات کے بعد جاری اپنے بیان میں کہا کہ سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگن سٹاک میں ہونے والے اہم سفارتی رابطوں میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور کئی معاملات پر مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران فریقین نے مستقبل میں ایک جامع اور پائیدار معاہدے کی بنیاد رکھنے کے امکانات کا جائزہ لیا۔ اس سلسلے میں اعتماد سازی، باہمی ذمہ داریوں اور طے شدہ نکات پر عملدرآمد کے طریقہ کار پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔
اسماعیل بقائی کے مطابق مذاکرات کے نتیجے میں یہ اتفاق رائے پیدا ہوا کہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کو محفوظ اور بلا رکاوٹ رکھنے کے لیے ایک مؤثر میکنزم تشکیل دیا جائے گا۔ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اس اہم بحری گزرگاہ کا محفوظ رہنا تمام متعلقہ فریقوں کے مفاد میں ہے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ سیاسی سطح پر مذاکراتی وفد کا کام مکمل ہوچکا ہے، تاہم متعدد عملی اور تکنیکی معاملات پر مزید کام درکار ہے، جس کے لیے ماہرین اور تکنیکی ٹیمیں فوری طور پر اپنی مشاورت اور رابطوں کا سلسلہ جاری رکھیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی بات چیت کے حوالے سے مشترکہ اعلامیہ پاکستان اور قطر کی جانب سے جاری کیا جائے گا، کیونکہ دونوں ممالک نے مذاکراتی عمل میں ثالث اور سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق مذاکرات کے دوران کئی اہم نکات پر پیش رفت ہوئی، خصوصاً ایسے معاملات پر جن کا تعلق فریقین کی ذمہ داریوں اور مستقبل کے ممکنہ اقدامات سے ہے، اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو آئندہ مراحل میں مزید مثبت نتائج سامنے آسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ اتوار کو سوئٹزرلینڈ کے پُرفضا علاقے برگن سٹاک میں ایران اور امریکا کے اعلیٰ سطحی وفود کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے، جن میں پاکستان اور قطر نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ سفارتی حلقوں کے مطابق یہ ملاقات حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی اہم ترین بات چیت میں شمار کی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: مشکلات کے شکار برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے: صدر ٹرمپ
مذاکراتی اجلاس کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور قطر کے وزیراعظم کا خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر ہونے والی ملاقاتوں اور سفارتی روابط کو عالمی میڈیا نے غیرمعمولی اہمیت دی اور اسے خطے میں امن کی کوششوں کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کا انعقاد عالمی امن، علاقائی استحکام اور معاشی خوشحالی کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بات چیت کا یہ سلسلہ مستقبل میں مزید پیش رفت کا باعث بنے گا اور خطے کو درپیش پیچیدہ مسائل کے حل میں مدد فراہم کرے گا۔
واضح رہے کہ مذاکرات کے پہلے مرحلے کی تکمیل کے بعد اب تمام توجہ تکنیکی ٹیموں کے کام پر مرکوز ہوگی، جو مختلف معاہدوں اور مجوزہ اقدامات کے عملی خدوخال طے کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ اگر یہ مرحلہ کامیابی سے مکمل ہوتا ہے تو فریقین کے درمیان تعلقات میں بہتری اور خطے میں کشیدگی میں مزید کمی کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔







