حکام کے مطابق آگ میں جھلس کر جاں بحق ہونے والوں کی تعداد تقریباً 40 ہے، تاہم بعض ممالک نے ہلاکتوں کی تعداد 47 تک بتائی ہے۔
عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ آگ لی کانسٹیلیشن نامی بار میں لگی، جہاں نئے سال کی تقریب کے موقع پر بڑی تعداد میں نوجوان موجود تھے۔ شدید جھلسنے کے باعث لاشوں کی شناخت میں مشکلات پیش آ رہی ہیں اور اس عمل میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔ آگ کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
کرانس مونٹانا کے میئر نکولس فیروڈ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ حکام کی اولین ترجیح تمام لاشوں کی شناخت ہے، تاہم یہ ایک وقت طلب عمل ہے۔ کینٹن ویلائس کی حکومت کے سربراہ میتھیاس رینارڈ نے کہا کہ شناخت کے لیے دانتوں کے ریکارڈ اور ڈی این اے نمونوں کی مدد لی جا رہی ہے، جب تک سو فیصد تصدیق نہ ہو جائے، متاثرہ خاندانوں کو کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا سکتیں۔
واقعے کے بعد کئی نوجوانوں کے لاپتہ ہونے پر والدین نے اپنے پیاروں کی تلاش کے لیے اپیلیں کی ہیں، جب کہ غیر ملکی سفارتخانے بھی اس بات کا تعین کر رہے ہیں کہ آیا ان کے شہری متاثرین میں شامل ہیں یا نہیں۔ اٹلی اور فرانس نے تصدیق کی ہے کہ ان کے کچھ شہری لاپتہ ہیں، جبکہ اطالوی وزیر خارجہ انتونیو تاجانی جمعے کو کرانس مونٹانا کا دورہ کریں گے۔ آسٹریلیا نے بھی اپنے ایک شہری کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
اطالوی سفیر کے مطابق 112 زخمیوں میں سے بیشتر کی شناخت ہو چکی ہے، جب کہ چھ اطالوی شہری تاحال لاپتہ ہیں اور 13 اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ شدید طور پر جلی ہوئی لاشوں کے باعث حتمی ہلاکتوں کی تعداد اور ناموں کا اعلان کرنے میں وقت لگے گا۔
خیال رہے کہ آگ لگنے کی وجوہات تاحال واضح نہیں ہو سکیں، تاہم سوئس حکام کے مطابق یہ واقعہ کسی حملے کے بجائے حادثہ معلوم ہوتا ہے۔ عینی شاہدین اور سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کے مطابق بار کے تہہ خانے کی چھت ممکنہ طور پر اس وقت آگ کی لپیٹ میں آئی جب اسپارکلنگ کینڈلز بہت قریب آ گئیں اور آگ تیزی سے پھیل گئی۔
واقعے کے بعد کرانس مونٹانا کے رہائشی شدید صدمے میں ہیں۔ بڑی تعداد میں لوگوں نے جائے حادثہ کے قریب خاموشی سے جمع ہو کر متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ سوئس حکومت نے قومی پرچم پانچ دن کے لیے سرنگوں رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
متاثرہ علاقے میں لوگوں نے پھول رکھے اور شمعیں روشن کیں، کئی افراد آبدیدہ ہو گئے جبکہ بعض نے ایک دوسرے کو گلے لگا کر تسلی دی۔ پولیس کے مطابق شناخت مکمل ہونے تک بعض لاشیں اب بھی بار کے اندر موجود ہیں اور حکام نے چوبیس گھنٹے کام جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
ایک مقامی نوجوان نے بتایا کہ آگ بہت تیزی سے پھیلی اور نکلنے کا موقع نہ مل سکا، جب کہ ایک 17 سالہ لڑکی نے کہا کہ وہ بھی اس تقریب میں جانے والی تھی مگر آخری لمحے پر گھر والوں کے ساتھ رک گئی۔ وہ اپنی ماں کی شکر گزار ہے، ورنہ شاید وہ بھی متاثرین میں شامل ہوتی۔







