سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ سپریم لیڈر کے حکم کی تعمیل میں ہم آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کی حکمت عملی برقرار رکھتے ہوئے جارح دشمن کو سخت ترین ضربیں پہنچائیں گے۔
📌«علیرضا تنگسیری»، فرمانده نیروی دریایی #سپاه_پاسدارن، در واکنش به اولین پیام «#مجتبی_خامنهای»، رهبر جدید #ایران، که ساعتی پیش از تلویزیون ایران خوانده شد، میگوید با بسته نگه داشتن #تنگه_هرمز «شدیدترین ضربات را به دشمن وارد خواهیم کرد.»
— العين فارسى AlAin Persian (@AlainPersian) March 12, 2026
📌مجتبی خامنهای در پیام خود بر بسته… pic.twitter.com/10QrxgGXbA
ایرانی حکام اس سے قبل بھی خبردار کر چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور اس اہم سمندری گزرگاہ کو بند کیا جا سکتا ہے، جس سے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
اس سے قبل ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پہلے پیغام میں کہا تھا کہ آبنائے ہرمز بند رہے گی اور اگر امریکی اڈے بند نہ کیے گئے تو حملے جاری رہیں گے۔
دوسری جانب ایرانی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے بجلی کے نیٹ ورک کو نقصان پہنچایا گیا تو آدھے گھنٹے کے اندر پورا خطہ تاریکی میں ڈوب جائے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ اندھیرا خطے میں بھاگتے ہوئے امریکی فوجیوں کو نشانہ بنانے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔
#BREAKING
— Tehran Times (@TehranTimes79) March 12, 2026
Ali Larijani, Secretary of Iran’s Supreme National Security Council, addressing Trump: “Starting a war is easy, but ending it cannot be done with a few tweets. We will not let you go until you admit your mistake and pay the price.” pic.twitter.com/DGlTeGjYuq
انہوں نے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے جواب میں دیا، جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایک گھنٹے کے اندر ایران کے بجلی کے نظام کو ختم کر سکتے ہیں۔
علی لاریجانی نے ایک اور پوسٹ میں لکھا کہ ٹرمپ کہتے ہیں کہ وہ جلد فتح دیکھ رہے ہیں۔ جنگ شروع کرنا آسان ہے، لیکن اسے چند ٹویٹس کے ذریعے نہیں جیتا جا سکتا۔ جب تک آپ اپنی سنگین غلطی پر پچھتائیں گے نہیں، ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔






