سلہٹ میں دوسرے ٹیسٹ میچ میں شکست کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شان مسعود نے کہا کہ انہوں نے کپتانی کی ذمہ داری ہمیشہ نیک نیتی اور پاکستان کرکٹ کی بہتری کے جذبے کے ساتھ قبول کی تھی، تاہم ٹیم میں کئی ایسے شعبے ہیں جن پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ “میری ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ پاکستان ٹیسٹ کرکٹ آگے بڑھے، اس کے لیے صرف ٹیم میں تبدیلیاں کرنا کافی نہیں بلکہ مجموعی نظام، تیاری اور حکمت عملی کو بہتر بنانا ہوگا۔”

شان مسعود نے واضح کیا کہ کپتانی برقرار رکھنا یا تبدیل کرنا مکمل طور پر پاکستان کرکٹ بورڈ کا اختیار ہے، تاہم ان کی توجہ ذاتی حیثیت کے بجائے ٹیم کی بہتری پر مرکوز ہے۔

ان کے مطابق “کرکٹ کی بہتری صرف عہدے پر بیٹھ کر نہیں ہوتی، ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ اگر ہم واقعی کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو جذباتی فیصلوں کے بجائے حقیقت پسندانہ جائزہ لینا ہوگا۔”

پاکستانی کپتان نے شکست پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پوری ٹیم اس ناکامی پر دلبرداشتہ ہے، لیکن صرف بیٹنگ، بولنگ یا فیلڈنگ کو الگ الگ ذمہ دار قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ ایک مکمل ٹیم گیم ہے جہاں معمولی غلطیاں بھی میچ کا نتیجہ تبدیل کر دیتی ہیں۔ “جب ٹیم جیتتی ہے تو ہر رن، ہر کیچ اور ہر اوور اہم ہوتا ہے، اسی طرح شکست میں بھی سب کی مشترکہ ذمہ داری ہوتی ہے۔”

شان مسعود نے کہا کہ پاکستان کو ٹیسٹ کرکٹ میں مستقل مزاجی پیدا کرنے کے لیے بنیادی خامیوں پر کام کرنا ہوگا،  چاہے کھلاڑی نوجوان ہو یا سینئر، ہر کسی کو اپنی کمزوریوں پر قابو پانا ہوگا۔

مزید پڑھیں: فاسٹ بولر محمد عباس نے پروفیشنل کرکٹ میں ایک ہزار وکٹوں کا تاریخی سنگ میل عبور کر لیا

ٹیسٹ کرکٹر نے کہا کہ دنیا کی بڑی ٹیمیں مسلسل منصوبہ بندی، ڈومیسٹک اسٹرکچر اور طویل المدتی وژن کے ذریعے مضبوط بنتی ہیں، جبکہ پاکستان کو بھی اسی سمت میں سوچنا ہوگا۔

واضح رہے کہ بنگلادیش نے سلہٹ ٹیسٹ میں پاکستان کو 78 رنز سے شکست دے کر دو میچوں کی سیریز میں کلین سوئپ مکمل کیا، جو بنگلادیش کرکٹ کی تاریخ کی بڑی کامیابیوں میں شمار کی جا رہی ہے۔

اس سے قبل ڈھاکا میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں بھی پاکستان ٹیم کو 104 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

سیریز میں شکست کے بعد قومی ٹیم کی کارکردگی، ٹیم سلیکشن اور کپتانی کے حوالے سے شدید تنقید کی جا رہی ہے، جبکہ سابق کرکٹرز اور شائقین کرکٹ کی جانب سے پاکستان ٹیسٹ کرکٹ میں بڑے فیصلوں کا مطالبہ بھی سامنے آ رہا ہے۔