غیرملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے پینٹاگون میں بریفنگ کے دوران کہا کہ بحرِ ہند میں موجود ایک ایرانی جنگی جہاز کو امریکی آبدوز نے ٹارپیڈو کے ذریعے نشانہ بنایا، یہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد کسی دشمن کے خلاف اس نوعیت کا پہلا حملہ ہے۔
سری لنکن بحریہ کے مطابق ڈوبنے والا ایرانی فریگیٹ آئی آر آئی ایس دینا تھا، جو جنوبی شہر گالے
سے تقریباً 40 ناٹیکل میل (75 کلومیٹر) دور سمندر میں موجود تھا۔ جہاز پر تقریباً 180 اہلکار سوار تھے۔
حکام کے مطابق جہاز نے بدھ کی صبح 6 سے 7 بجے کے درمیان مدد کے لیے پیغام بھیجا، جس کے بعد سری لنکن حکومت نے فوری طور پر بحری اور فضائی امدادی کارروائی شروع کی۔
سری لنکا کے وزیرِ خارجہ وجیتھا ہیراتھ نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ حکومت کو جہاز کی پریشانی کی اطلاع ملی جس پر فوری ریسکیو مشن روانہ کیا گیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق متعدد لاشیں نکالی جا چکی ہیں جب کہ 32 زخمی اہلکاروں کو بچا کر گال کے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ تاہم تقریباً 140 اہلکار تاحال لاپتہ ہیں اور ان کی تلاش جاری ہے۔
خیال رہے کہ ایرانی جنگی جہاز گزشتہ ماہ انڈیا کے ساحلی شہر وشاکھاپٹنم میں ہونے والے 2026 انٹرنیشنل فلیٹ ریویو میں شرکت کے بعد ایران واپس جا رہا تھا کہ راستے میں یہ واقعہ پیش آیا۔
دوسری جانب سری لنکن بحریہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جس مقام پر جہاز ڈوبا وہاں کسی اور جہاز یا طیارے کی موجودگی مشاہدے میں نہیں آئی۔ حکومت نے تاحال حادثے کی ممکنہ وجوہات سے متعلق کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔
کولمبو میں ایرانی سفارت خانے کے ایک اہلکار کے مطابق دو ایرانی افسران کو گال بھیجا گیا ہے تاکہ زندہ بچ جانے والے عملے سے معلومات حاصل کی جا سکیں اور حادثے کی وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں: شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین آبائی شہر مشہد میں ہوگی
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کا سلسلہ پانچویں روز میں داخل ہو چکا ہے۔
ایران کی جانب سے بھی اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی مفادات پر ڈرون اور میزائل حملوں کی اطلاعات ہیں، جن میں متعدد ہلاکتیں ہو چکی ہیں جب کہ چھ امریکی فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔
امریکی وزیرِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ ایرانی جنگی جہاز خود کو بین الاقوامی پانیوں میں محفوظ سمجھ رہا تھا، تاہم اسے ٹارپیڈو حملے میں غرق کر دیا گیا۔ تاہم انہوں نے نشانہ بنائے گئے جہاز کا نام واضح طور پر نہیں بتایا۔







