خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پولیس کے دو ذرائع اور ایک ہسپتال ذریعے نے واقعے کی تصدیق کی ہے، جبکہ اے ایف پی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں چار جیل اہلکار بھی شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ گزشتہ پانچ برس سے زائد عرصے میں ملک کا سب سے ہلاکت خیز جیل فساد ہے۔
پولیس کے مطابق دارالحکومت کولمبو کے شمال میں واقع نیگومبو کی مرکزی جیل میں اتوار کی شب منشیات فروش گروہوں سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کے درمیان تصادم شروع ہوا، جس کے بعد زخمیوں کو فوری طور پر نیگومبو ہسپتال منتقل کیا گیا۔
نیگومبو ہسپتال کی ڈائریکٹر پشپا گملاتھ کے مطابق سرکاری ہسپتال میں 23 لاشیں لائی گئی ہیں، جبکہ 100 سے زائد زخمی قیدیوں اور جیل اہلکاروں کو بھی داخل کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بعض زخمیوں کو گولیاں لگی ہیں، جبکہ کئی افراد کے جسم پر گہرے زخم اور شدید چوٹوں کے نشانات ہیں۔
حکام کے مطابق ہنگامہ نیگومبو جیل میں شروع ہوا، جہاں کئی ہزار قیدی قید ہیں۔ صورتحال بگڑنے پر خواتین وارڈ کی متعدد قیدی چھت پر چڑھ گئیں اور رہائی کا مطالبہ کرنے لگیں۔ اس دوران چھت کا ایک حصہ گرنے سے کئی خواتین قیدی بھی زخمی ہوئیں۔
صورتحال پر قابو پانے کے لیے پیر کو پولیس کمانڈوز کو طلب کیا گیا، تاہم انہیں جیل کے اندر تعینات نہیں کیا گیا۔
واقعے کے بعد قیدیوں کے اہلِ خانہ کی بڑی تعداد جیل کے باہر جمع ہو گئی، جبکہ فضائیہ نے علاقے کی نگرانی کے لیے ڈرونز اور ایک ہیلی کاپٹر بھی تعینات کیا۔ مقامی رہائشیوں نے فائرنگ کی آوازیں سننے کی بھی اطلاع دی۔
ایک پولیس اہلکار کے مطابق چار جیل اہلکار ہنگامہ روکنے کی کوشش کے دوران ہلاک ہوئے اور پیر کی صبح صورتحال مکمل طور پر قابو سے باہر ہو گئی تھی۔
یاد رہے کہ دسمبر 2020 میں بھی سری لنکا کی ایک جیل میں ہنگامے کے دوران 11 قیدی ہلاک اور 117 زخمی ہوئے تھے۔ یہ واقعہ کورونا وبا کے دوران پیش آیا تھا، جس کے بعد حکومت نے جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کے مسئلے کو کم کرنے کے لیے سیکڑوں قیدیوں کو رہا کیا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اتوار تک سری لنکا کی مختلف جیلوں میں مجموعی طور پر 41 ہزار 250 قیدی موجود تھے، جو ملک کی جیلوں کی مجموعی گنجائش سے تقریباً چار گنا زیادہ ہیں۔






