سینٹکام نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی افواج نے صدر ٹرمپ کی ہدایات کے مطابق ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں میں داخل ہونے اور وہاں سے روانہ ہونے والے تمام تجارتی اور بحری جہازوں پر عائد پابندیاں ختم کر دی ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ اب امریکی افواج خلیج فارس اور خلیج عمان میں ایرانی بندرگاہوں تک یا وہاں سے آنے والے جہازوں کی آمدورفت میں کسی قسم کی رکاوٹ یا مداخلت نہیں کر رہیں۔

سینٹکام کے مطابق ایران کے خلاف امریکی فوج کی جانب سے نافذ کردہ تمام بحری ناکہ بندی کے اقدامات باضابطہ طور پر ختم کر دیے گئے ہیں، جس کے بعد بین الاقوامی تجارتی جہاز معمول کے مطابق ایرانی بندرگاہوں تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے واضح کیا ہے کہ خطے میں موجود امریکی بحری بیڑے اور جنگی جہاز اپنی موجودگی برقرار رکھیں گے تاکہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی تمام شقوں پر عمل درآمد اور ان کی مکمل پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔

سینٹکام نے اپنے بیان میں کہا کہ ہمارے بحری جہاز عمومی طور پر علاقے میں موجود رہیں گے تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ معاہدے کے تمام پہلوؤں پر مکمل طور پر عمل کیا جا رہا ہے اور اس کی شرائط پوری طرح نافذ العمل رہیں۔

خیال رہے کہ بحری ناکہ بندی کا خاتمہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی عمل میں ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے نہ صرف آبنائے ہرمز اور خلیجی آبی گزرگاہوں میں تجارتی سرگرمیوں کی بحالی میں مدد مل سکتی ہے بلکہ عالمی توانائی منڈیوں اور تیل کی ترسیل پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے تحت جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز کی آزادانہ آمدورفت اور اقتصادی پابندیوں میں نرمی سے متعلق معاملات پر مزید مذاکرات جاری ہیں۔