بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ آسٹریلوی حکومت طالبان کی جانب سے مقرر کردہ کسی بھی سفارتکار، اعزازی قونصل یا نمائندے کو تسلیم یا قبول کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ دونوں فریقین نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ طالبان کو افغان عوام کے جائز نمائندے تسلیم نہیں کرتے۔

مشترکہ بیان کے مطابق افغان سفارتخانے کی معطلی دونوں جانب سے مشاورت کے بعد ایک  منظم اور باوقار منتقلی  کے تحت کی جا رہی ہے، تاہم یہ فیصلہ کسی بھی فریق کی افغانستان کی موجودہ صورتحال پر اصولی پوزیشن کو متاثر نہیں کرے گا۔

آسٹریلوی محکمہ خارجہ نے طالبان کی جانب سے انسانی حقوق کی مسلسل اور منظم خلاف ورزیوں، بالخصوص خواتین، بچیوں اور اختلافی آوازوں کے خلاف اقدامات کی شدید مذمت کی۔

بیان میں کہا گیا کہ آسٹریلیا اور افغان سفارتخانہ انسانی حقوق اور افغان عوام کے وقار کے لیے اپنے مشترکہ عزم پر قائم ہیں۔

واضح رہے کہ یہ سفارتخانہ 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ایک  جلا وطن سفارتخانے  کے طور پر کام کر رہا تھا اور آسٹریلیا میں مقیم ہزاروں افغان شہریوں کو پاسپورٹس، ویزے اور شناختی دستاویزات جیسی خدمات فراہم کر رہا تھا۔

جولائی 2024 میں طالبان کی جانب سے سابق افغان حکومت سے منسلک 14 سفارتخانوں کی قونصلر دستاویزات کو تسلیم نہ کرنے کے اعلان کے بعد اس کے کام میں شدید رکاوٹیں آ گئی تھیں۔

آسٹریلوی حکومت نے سابق افغان حکومت کے مقرر سفیر وحیداللہ وائسی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس مشکل دور میں افغان نژاد آسٹریلوی برادری کی مؤثر انداز میں خدمت کی۔ حکومت نے افغان عوام کے لیے انسانی امداد اور افغان ڈائسپورا سے روابط جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

دوسری جانب ریفیوجی کونسل آف آسٹریلیا نے سفارتخانے کی بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس فیصلے سے آسٹریلیا میں مقیم افغان شہری قونصلر سہولیات سے محروم ہو سکتے ہیں اور انہیں شناختی یا سفری دستاویزات کے لیے طالبان کے زیر انتظام اداروں سے رجوع کرنا پڑ سکتا ہے، جو ان کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔

آسٹریلوی حکومت کے مطابق ویانا کنونشن برائے سفارتی تعلقات کے تحت سفارتخانے کی بندش کے بعد بھی عمارت، املاک اور ریکارڈ کی حفاظت کی جائے گی۔

واضح رہے کہ طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد عالمی برادری کی اکثریت نے انہیں تسلیم نہیں کیا، جب کہ انسانی حقوق، دہشت گردی سے روابط اور جامع حکومت کے فقدان پر سنگین تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔