سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی کے مطابق بین الاقوامی جریدے دی گارڈین کی تفصیلی رپورٹ نے طالبان کے خواتین کے حقوق سے متعلق دعوؤں کو ایک بار پھر جھٹلا دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق عینی شواہد اور متاثرہ خواتین کے بیانات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ طالبان رجیم خواتین کے حقوق کا احترام نہیں کر رہا۔
دی گارڈین کے مطابق جنوری 2022 میں زرمنہ زرمنہ اور دیگر افغان خواتین نے کابل کی سڑکوں پر طالبان کی بڑھتی پابندیوں کے خلاف احتجاج کیا، جس کے بعد ان خواتین کو شدید دھمکیوں اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ احتجاج کے بعد طالبان کے حامیوں نے زرمنہ زرمنہ کے گھر پر دھاوا بول دیا اور انہیں سنگسار کرنے کے مطالبات کیے گئے۔ زرمنہ کو 27 دن تک قید میں رکھنے کے بعد طالبان نے انہیں کھلے الفاظ میں دھمکی دی کہ اگر دوبارہ آواز اٹھائی تو انہیں قتل کر دیا جائے گا۔
زرمنہ زرمنہ کے مطابق ہم صرف خواتین تھیں جو اپنے بنیادی حقوق مانگ رہی تھیں۔ وہ برقعہ پہن کر افغانستان سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئیں اور اس وقت جرمنی میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔ وہ جرمنی میں بھی خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ طالبان ان کے پورے خاندان کو سزا دے سکتے ہیں۔
ادھر پیپلز ٹریبونل فار ویمن آف افغانستان کی عالمی سطح پر جاری کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ متعدد افغان لڑکیاں غربت اور جبر کے باعث جبری شادیوں یا جنسی استحصال پر مجبور ہو رہی ہیں، جو افغانستان کے ایک غیر محفوظ اور ناکام ریاست بننے کی واضح علامت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی فلوریڈا میں ملاقات، محور غزہ میں جنگ بندی کے اگلے مرحلے کی راہ ہموار کرنا تھا
ماہرین کے مطابق دی گارڈین کی رپورٹ میں اس امر پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد خواتین اور لڑکیوں کی زندگی میں آنے والی معمولی بہتری بھی راتوں رات ختم ہو گئی۔ ابتدا میں خواتین کی پرامن اور غیر منظم احتجاجی تحریک کو طالبان نے طاقت کے زور پر کچل دیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دی گارڈین کی یہ رپورٹ صرف ایک خاندان کی داستان نہیں بلکہ طالبان رجیم کے تحت افغانستان کی مجموعی ابتر انسانی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے، جہاں خواتین کی آواز دبانا، پرامن احتجاج کو جرم قرار دینا اور خوف کے ذریعے معاشرے کو خاموش کرنا معمول بن چکا ہے۔
رپورٹ میں عالمی برادری کو خبردار کیا گیا ہے کہ طالبان کے دعوؤں کے برعکس زمینی حقائق افغانستان میں ایک سنگین انسانی حقوق کے بحران کی نشاندہی کر رہے ہیں۔







