عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کے شمالی صوبے بلخ کے سرحدی علاقے حیرتان میں ازبکستان کے ساتھ ایک مشترکہ مارکیٹ قائم ہے، جہاں روزانہ بڑی تعداد میں شہریوں کی آمد و رفت ہوتی ہے۔
اس مارکیٹ میں خریداری کے لیے خواتین کی بھی خاصی تعداد آتی رہی ہے، تاہم اب طالبان حکومت نے اعلان کیا ہے کہ بغیر محرم مارکیٹ آنے والی خواتین کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مارکیٹ کی سیکیورٹی پر تعینات طالبان اہلکار اُن خواتین کو داخل ہونے سے روک رہے ہیں جو کسی مرد سرپرست یا محرم کے بغیر مارکیٹ پہنچی ہوں۔
عینی شاہدین کے مطابق جن خواتین کے ساتھ مرد موجود ہوتے ہیں، ان سے بھی محرم رشتے کا ثبوت طلب کیا جا رہا ہے اور اس مقصد کے لیے دستاویزی شواہد مانگے جاتے ہیں۔
اگر کسی مرد کے پاس خواتین کے ساتھ محرم رشتہ ثابت کرنے کے لیے مطلوبہ دستاویزات موجود نہ ہوں تو ایسے مردوں کو بھی مارکیٹ میں داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
Taliban are preventing women they deem to be travelling without a male guardian from entering a joint market between Afghanistan and Uzbekistan, local sources in northern Balkh province said.https://t.co/5veOrGZ8vK pic.twitter.com/yKGptHmHor
— Amu TV English (@AmuTVEnglish) December 22, 2025
حیرتان کے مقامی رہائشیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ بعض اوقات طالبان اہلکار مردوں کے ساتھ نہایت سخت اور توہین آمیز رویہ اختیار کرتے ہیں۔
ایک مقامی افغان شہری نے میڈیا کو بتایا کہ اپنی ہی سرزمین پر جو سلوک ہمیں برداشت کرنا پڑ رہا ہے، وہ بعض اوقات ازبکستان کی جانب موجود حکام کے رویے سے بھی زیادہ سخت محسوس ہوتا ہے۔
انہوں نے ایک غیر ملکی صحافی کو مزید بتایا کہ سرحد پار جانے کے خواہشمند افراد کو بار بار تضحیک آمیز رویے اور شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس سرحدی مارکیٹ میں آنے والی خواتین کی بڑی تعداد عمر رسیدہ ہوتی ہے، جو ازبکستان اور روس میں علاج کی غرض سے بھی سفر کرتی ہیں۔
طالبان حکام کی جانب سے تاحال اس پابندی کے حوالے سے کوئی واضح یا باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔






