وزارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بعض لوگ متاثرہ علاقوں کی تصاویر اور ویڈیوز بنا کر انہیں مختلف سیٹلائٹ چینلز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھیج رہے ہیں، جو مبینہ طور پر اسرائیل کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ایسا کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جو شہری حملوں کے مقامات کی ویڈیوز یا تصاویر بنا کر غیر ملکی یا سیٹلائٹ میڈیا کو فراہم کرتے ہیں، انہیں اسرائیل کا پانچواں ستون قرار دیا جائے گا۔
وزارت کے مطابق ایسے افراد کو مستقبل میں اسرائیل اور دشمن ریاستوں کے ساتھ تعاون پر سزاؤں کو سخت کرنے سے متعلق قانون کے آرٹیکل 4 کے تحت مقدمات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: پڑوسی ممالک کے خلاف کسی قسم کے حملے یا میزائل کارروائی کا کوئی ارادہ نہیں ہے: ایران
ادھر دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کی جانب سے اسرائیل کی طرف داغے گئے میزائلوں کی نشاندہی کر لی ہے۔ اسرائیلی دفاعی افواج کے مطابق دفاعی نظام میزائل خطرے کو روکنے کے لیے فعال ہیں۔
اسرائیلی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ شہریوں کے موبائل فونز پر الرٹس جاری کیے گئے ہیں جن میں رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔







