ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان حملوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے، تاہم اصل نقصان کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آ سکیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم کے دورے کے دوران کہا کہ ہم تباہ شدہ تنصیبات کو پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ دوبارہ تعمیر کریں گے۔ اپنی سرکاری ویب سائٹ پر جاری ایک ویڈیو میں انہوں نے کہا کہ عمارتوں کی تباہی ہمیں پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کر سکتی اور ایرانی سائنسدان جوہری ٹیکنالوجی پر مکمل عبور رکھتے ہیں۔
صدر پزشکیان نے مزید وضاحت نہیں کی، تاہم فروری میں اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر ایران کی تنصیبات پر حملہ ہوا تو انہیں فوری طور پر دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔
جون میں اسرائیل نے ایران کے خلاف غیر معمولی فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا جس کے نتیجے میں بارہ روزہ جنگ چھڑ گئی تھی۔ ان حملوں میں جوہری و عسکری مقامات کے ساتھ ساتھ رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا اور متعدد اعلیٰ سطح کے سائنسدان ہلاک ہوئے تھے۔
ایران نے اس کے جواب میں اسرائیلی شہروں پر بیلسٹک میزائلوں کی بوچھاڑ کی تھی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جولائی میں، امریکا کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد کہا تھا کہ ایران کو پہنچنے والا نقصان سنگین اور شدید ہے۔
صدر پزشکیان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عمان، جو ایران اور امریکا کے درمیان روایتی ثالث کا کردار ادا کرتا ہے، نے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات دوبارہ شروع کریں۔
عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے بحرین میں آئی آئی ایس ایس منامہ ڈائیلاگ کانفرنس کے دوران کہا کہ ہم ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی بحالی چاہتے ہیں۔
ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے اتوار کو بتایا کہ تہران کو سفارتی عمل کی بحالی سے متعلق پیغامات موصول ہوئے ہیں، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
عمان نے رواں سال ایران اور امریکا کے درمیان پانچ دور کے مذاکرات کی میزبانی کی تھی، مگر چھٹے دور کے آغاز سے صرف تین دن قبل اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کیے تھے۔ اس کے بعد ایران کو اقوام متحدہ کی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کا سامنا کرنا پڑا جب برطانیہ، جرمنی اور فرانس نے 2015 کے جوہری معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی پر اسنیپ بیک میکانزم کو فعال کیا۔







