واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے کے وسط میں ایک ایسا وقت آیا جب پورا خطہ شدید بے چینی کا شکار تھا۔ اسی دوران ایرانی وزیرِ خارجہ کی جانب سے بھیجا گیا ایک خفیہ ٹیکسٹ پیغام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر فوجی حملے کا حکم دینے سے روکنے کا باعث بنا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ ممکنہ کارروائی ایران میں عوامی احتجاج کو طاقت سے کچلنے کے ردِعمل میں کی جانی تھی، تاہم آخری لمحے میں صورتحال نے نیا رخ اختیار کرلیا۔

رپورٹ کے مطابق امریکا نے ایران کی جانب سے صدر ٹرمپ کی مقرر کردہ سرخ لکیر جو مظاہرین کے تحفظ سے متعلق تھی اسے عبور کیے جانے کے بعد جوابی کارروائی کی تمام تیاری مکمل کر لی تھی۔

رپورٹ کے مطابق  ان تیاریوں میں خطے میں جنگی بحری جہازوں کی دوبارہ تعیناتی اور قطر میں واقع العدید بیس پر الرٹ لیول میں اضافہ شامل تھا۔ اسی دوران سی آئی اے کے سربراہ نے صدر ٹرمپ کو خفیہ رپورٹس اور ویڈیو شواہد سے آگاہ کیا، جن میں ایرانی مظاہرین کے خلاف کی جانے والی کارروائی کی تفصیلات موجود تھیں۔

رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے پسِ پردہ رابطے کے ذریعے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کو ایک ٹیکسٹ پیغام بھیجا، جس میں ایران نے مظاہرین کے قتلِ عام کو فوری طور پر روکنے اور احتجاجی تحریک کے تقریباً 800 گرفتار رہنماؤں کے خلاف طے شدہ سزائیں منسوخ کرنے کی غیرمتوقع یقین دہانی کرائی۔

امریکی حکام کے مطابق اس پیغام نے ممکنہ دھماکہ خیز صورتحال کو تھام لیا۔ صدر ٹرمپ نے ایران کے وعدوں پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے فوجی کارروائی مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا۔ بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ہم دیکھیں گے اور انتظار کریں گے اور اشارہ دیا کہ انہیں ایران کی جانب سے تشدد رکنے کی اطلاعات ملی ہیں۔

رپورٹ میں امریکی انتظامیہ کے اندر شدید اختلافات کی بھی نشاندہی کی گئی۔ ایک جانب سخت گیر حلقے ایران کو کمزور کرنے کے لیے موقع سے فائدہ اٹھانے کے حامی تھے، جب کہ دوسری جانب اسٹیو وٹکوف اور وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز کی قیادت میں ایک گروپ نے خبردار کیا کہ مکمل جنگ عرب اتحادیوں کے استحکام کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

دوسری جانب  تہران نے سرکاری سطح پر ان رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجتماعی سزاؤں سے متعلق اطلاعات گمراہ کن ہیں اور ان کا مقصد امریکی ردِعمل کو بھڑکانا ہے۔

عباس عراقچی نے عالمی میڈیا سے گفتگو میں ان خبروں کو مسترد کیا، جب کہ تہران کے پراسیکیوٹر جنرل نے ملکی خودمختاری کے خلاف کسی بھی اقدام پر سخت ردِعمل دینے کی دھمکی دیتے ہوئے احتجاجات کو بیرونی مداخلت کا نتیجہ قرار دیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران شدید معاشی بحران کا شکار ہے اور تجزیہ کاروں کے مطابق ملک دہائیوں کے سب سے بڑے عوامی احتجاجات کی لپیٹ میں ہے۔ اگرچہ خفیہ پیغام کے بعد حالات میں وقتی سکون پیدا ہوا ہے، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا کا فوجی آپشن—جس میں جوہری اور میزائل تنصیبات کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے،اب بھی زیرِ غور ہے اور آنے والے دن اس حوالے سے فیصلہ کن ثابت ہوسکتے ہیں۔