عباس عراقچی نے ماسکو کے دورے کے دوران آر ٹی نیٹ ورک کے ساتھ گفتگو میں واضح کیا کہ ایران جنگ کا خیرمقدم نہیں کرتا، مگر اس کے لیے مکمل تیاری لازمی ہے کیونکہ جنگ کو روکنے کا سب سے مؤثر طریقہ یہی ہے۔
وزیرِ خارجہ نے کہا کہ 12 روزہ جنگ کے دوران جو نقصان ہوا تھا، وہ اب مکمل طور پر دوبارہ تعمیر ہو چکا ہے اور کسی بھی نئے حملے کی ناکامی اس سابقہ تجربے کی طرح ہوگی۔
یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نے رپورٹ دی تھی کہ اسرائیلی حکام کا ماننا ہے کہ ایران بیلسٹک میزائل پروگرام کو دوبارہ فعال کر رہا ہے اور اسی لیے وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر دوبارہ حملے کے اختیارات دینے پر بات کرنا چاہتے ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق اسرائیل کو یورینیم افزودگی کی تنصیبات کی دوبارہ تعمیر اور ایران کے میزائل پروگرام کی فوری نگرانی پر تشویش ہے۔
امریکی صدر اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کی ملاقات نو جنوری کو فلوریڈا میں متوقع ہے، جس میں اسرائیل امریکہ کو ایران کے خلاف فوری کارروائی کی ضرورت سے آگاہ کرے گا۔
ٹرمپ نے اس ملاقات کے حوالے سے کہا کہ ابھی تک کوئی خاص ایجنڈا نہیں ہے، صرف یہ ملاقات نیتن یاہو کی خواہش پر طے پائی ہے۔






