طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری بیان میں الزام عائد کیا کہ پاکستان نے سیاسی اور معاشی دباؤ ڈالنے کے لیے افغانستان اور پاکستان کے درمیان تجارت اور راہداری کے راستے غیر قانونی طور پر بند کر رکھے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے عوام کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
ترجمان کے مطابق افغانستان اپنی ضروریات کئی ممالک کے ساتھ تجارت کے ذریعے پوری کرتا ہے اور پاکستان کے ساتھ بھی باعزت اور بااعتماد تجارتی تعلقات چاہتا ہے۔
امارت اسلامی افغانستان بار دیگر موقف خود را در مورد گشایش راههای تجارتی با پاکستان تکرار مینماید.
— Zabihullah (..ذبـــــیح الله م ) (@Zabehulah_M33) December 4, 2025
چنانچه راههای تجارت و ترانزیت میان افغانستان و پاکستان از سوی پاکستان بهصورت غیرقانونی و بهگونه وسیلهٔ فشار سیاسی و اقتصادی مسدود گردیده بود،
۳/۱
ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ افغان حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے مستقبل میں راستے سیاسی دباؤ، غیر قانونی مفادات یا لوگوں پر دباؤ کے لیے بند نہ کرنے کی یقین دہانی کے بعد ہی تجارتی راستے کھولے جائیں گے۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے تاجروں اور عوام کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت بھی ضروری ہے۔
واضح رہے کہ تقریباً دو ماہ تک سرحد پار کارگو کی نقل و حرکت مکمل طور پر معطل رہی۔ گزشتہ روز پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر افغانستان کے لیے بھیجے جانے والے سامان کی کلیئرنس جزوی طور پر بحال کی ہے، جو اکتوبر میں معمول کی تجارت بند ہونے کے بعد ٹرانزٹ ٹریڈ کی پہلی محدود بحالی ہے۔
یاد رہے کہ 12 اکتوبر سے طورخم، غلام خان، خرلاچی اور انگور اڈہ سمیت بڑے کراسنگ پوائنٹس پر درآمدات، برآمدات اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی کلیئرنس مکمل طور پر معطل تھی، جب کہ چمن بارڈر پر یہ پابندی 15 اکتوبر سے نافذ کی گئی تھی۔






