برطانوی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق عرب اور مسلم ممالک نے ٹرمپ کے جنگ بندی منصوبے میں ٹونی بلیئر کے کردار پر سخت تحفظات کا اظہار کیا تھا، جس کے بعد انہیں کونسل کا حصہ نہیں رکھا گیا۔
رپورٹ میں یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ اگرچہ ان کا نام فہرست سے نکال دیا گیا ہے، لیکن ٹونی بلیئر مستقبل میں غزہ کی صورتِ حال میں کسی نہ کسی شکل میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
Former UK PM #TonyBlair has been withdrawn from the US-led #Gaza ‘peace council’ following objections by Arab and Muslim countries https://t.co/UNQ4FCGU1j pic.twitter.com/p1hALrxNcK
— Arab News (@arabnews) December 9, 2025
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ستمبر میں غزہ کے لیے امن منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے ٹونی بلیئر کا نام غزہ امن کونسل کے لیے تجویز کیا تھا۔
یاد رہے کہ ٹونی بلیئر نے 2003 میں برطانوی وزیراعظم کی حیثیت سے عراق جنگ کی بھرپور حمایت کی تھی اور امریکا کا ساتھ دینے کے لیے برطانوی فوج بھی عراق بھیجی تھی۔
اس جنگ کی بنیاد وہ دعوے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ عراق کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں، تاہم بعد میں یہ دعوے غلط ثابت ہوئے۔






