انھوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اب تک 9,000 اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے، اور یہ کہ امریکہ ایران کی بحریہ بشمول اس کے بارودی سرنگ بچھانے والے جہازوں کو ’صفحۂ ہستی سے مٹا رہا ہے‘۔


لیوٹ کے مطابق تین ہفتوں کے عرصے میں کسی بحریہ کی اتنی بڑی تباہی دوسری جنگِ عظیم کے بعد پہلی بار دیکھی گئی ہے۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ ہماری فوجی کارروائیاں مزید کامیاب ہو رہی ہیں‘ اور امریکہ ایران کی تجارتی جہازوں پر حملہ کرنے کی صلاحیت کو کمزور کر رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان تمام عوامل کی وجہ سے امریکہ آپریشن ایپک فیوری کے بنیادی مقاصد کے حصول کے بہت قریب ہے، اور جنگ کے 25 دن بعد امریکہ ’شیڈول سے آگے‘ ہے۔

ایران کی ’جوہری خواہشات‘ کچل دی گئی ہیں، لیوٹ

لیوٹ کے مطابق ایران کی جوہری خواہشات ’کچل دی گئی ہیں‘ اور ایرانی قیادت اب اس صورتحال سے نکلنے کے لیے ’ایگزٹ ریمپ‘ تلاش کر رہی ہے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے توانائی کے ڈھانچے پر حملے کی دھمکی کے بعد یہ واضح ہو گیا کہ ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے۔

لیوٹ نے دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ گذشتہ تین دن سے ایران کے ساتھ ’مثبت اور نتیجہ خیز گفتگو‘ میں مصروف ہیں۔ انھوں نے کہا کہ صدر کا مقصد ہمیشہ امن ہوتا ہے، لیکن خبردار کیا کہ اگر ایران نے موجودہ صورتحال کو قبول نہ کیا تو ٹرمپ ’پہلے سے کہیں زیادہ سخت ضرب‘ لگائیں گے۔ ٹرمپ دھمکی نہیں دیتے اور وہ جہنم برپا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی آخری ’غلطی‘ نے اسے اس کی قیادت، بحریہ اور فضائی دفاعی نظام سے محروم کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ  اس وقت کانگریس سے ایسی منظوری کی ضرورت نہیں، کیونکہ امریکہ ’اس وقت بڑی جنگی کارروائیوں میں مصروف ہے‘۔

ایران جنگ، امریکا کا اندازہ غلط ثابت ہوا؟

انھوں نے کہا کہ صدر اور محکمہ دفاع نے اندازہ لگایا تھا کہ یہ آپریشن تقریباً چار سے چھ ہفتے لے گا، اور ابھی جنگ کا 25واں دن ہے۔

لیوٹ کے مطابق صدر نے جنگ سے قبل کانگریس کے چند اہم خارجہ پالیسی رہنماؤں کو ’بطور احترام‘ آگاہ کیا تھا، اور انتظامیہ کے نمائندے قانون سازوں کو بریفنگ بھی دیتے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ انتظامیہ ہمیشہ قانون کے مطابق کام کرے گی۔

امریکی آئین کے مطابق جنگ کا باضابطہ اعلان کانگریس کرتی ہے۔ تاہم حالیہ ہفتوں میں سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں نے وہ قراردادیں منظور کرنے سے انکار کر دیا جو صدر ٹرمپ کے جنگی اختیارات کو محدود کرتیں۔

پاکستان میں مذاکرات پر سوال



لیوٹ سے پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے امکان کے بارے میں بھی پوچھا گیا۔ جب تک وائٹ ہاؤس کی جانب سے کوئی باضابطہ اعلان نہ ہو، کسی بھی قیاس آرائی کو سرکاری مؤقف نہ سمجھا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: جنگ بندی مذاکرات: ایران نے مجوزہ امریکی تجاویز مسترد کردیں، ایرانی حکام کے پانچ نکات کیا ہیں؟

کیرولین لیوٹ نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ یہ جواب انھوں نے اس سوال پر دیا کہ ایرانی سرکاری ٹی وی کا دعویٰ ہے کہ ایران نے ایک مجوزہ منصوبہ مسترد کر دیا ہے۔

لیوٹ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا 15 نکاتی منصوبہ ’قیاس آرائی‘ پر مبنی ہے۔ اس میں کچھ عناصر درست ہیں، لیکن اس پر ہونے والی تمام رپورٹنگ مکمل طور پر حقائق پر مبنی نہیں۔

 انھوں نے مزید کہا کہ وہ جاری مذاکرات کی تفصیلی باریکیوں میں نہیں جائیں گی۔

کیا ٹرمپ چینی صدر شی چن پنگ سے ملاقات کریں گے؟

کیرولین لیوٹ سے پوچھا گیا کہ کیا ایران میں جاری امریکی جنگ اُس وقت تک ختم ہوتی نظر آئے گی جب صدر ٹرمپ 14 اور 15 مئی کو بیجنگ میں صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے؟

لیوٹ نے جواب دیا کہ چونکہ آپریشن کی مدت کا اندازہ چار سے چھ ہفتے لگایا گیا تھا، اس لیے ’آپ خود حساب لگا سکتے ہیں‘ کہ اس وقت جنگ کس مرحلے پر ہوگی۔ یہ ملاقات اب دوبارہ شیڈول کی گئی ہے۔

ایک صحافی نے لیوٹ سے پوچھا کہ کیا امریکہ لبنان میں اسرائیل کی کارروائی کی حمایت کر رہا ہے، اور کیا صدر ٹرمپ جنوبی لبنان میں بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد پر تشویش رکھتے ہیں۔


لیوٹ نے کہا کہ وہ امریکی حمایت پر تبصرہ نہیں کر سکتیں، لیکن صدر کو بے گھر ہونے والوں کی صورتحال پر ’یقیناً تشویش‘ ہے، اسی لیے وہ ایران اور اس کے اتحادیوں جیسے حزب اللہ کے خطرے کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ چونکہ امریکی اتحادی جنگ میں شامل نہیں ہو رہے، تو کیا ایران میں زمینی فوج بھیجنا واحد آپشن رہ گیا ہے؟ لیوٹ نے اس سوال پر بھی تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔