پیر کو رجب طیب ایردوان نے اقتصادی تعاون سے متعلق سربراہی اجلاس کے لیے استنبول میں جمع ہونے والے اسلامی تعاون تنظیم کے مندوبین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حماس معاہدے کی پاسداری کے لیے پوری طرح پرعزم دکھائی دیتی ہے۔‘
انہوں نے کہا ہے کہ حماس معاہدے کا احترام کرنے کے لیے پرعزم نظر آتی ہے۔ اس کے برعکس، ہم سب نے دیکھا کہ اس حوالے سے اسرائیل کا ریکارڈ بہت خراب ہے۔
ان کا یہ تبصرہ ایسے وقت میں آیا جب ترکی 10 اکتوبر کو ہونے والی جنگ بندی پر بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان غزہ کی تعمیر نو پر بات چیت کے لیے سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، اردن، پاکستان اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ کی میزبانی کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
ایردوان نے مزید کہا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم کی طرف سے تیار کردہ تعمیر نو کے منصوبے پر فوری طور پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ ترکیہ کے صدر نے یہ بات تباہ شدہ فلسطینی علاقوں کی تعمیر نو کے لیے مارچ میں منظر عام پر آنے والے منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے کی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ استنبول اجلاس کا مقصد ’ہماری پیشرفت کا جائزہ لینا اور اس بات پر تبادلہ خیال کرنا ہے کہ ہم اگلے مرحلے میں مل کر کیا حاصل کر سکتے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’ایک امن منصوبہ تکمیل کے مراحل پر ہے، اور یہ سب کے لیے امید کی کرن ہے۔‘
یادرہے کہ اکتوبر 2023 میں غزہ میں شروع ہونے والی تباہی سے اب تک 60 ہزار کے قریب فلسطینی لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔







