برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق پیر کو اس معاہدے پر دستخط کے لیے انقرہ پہنچنے والے برطانوی وزیرِ اعظم سر کیئر سٹارمر کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ ’برطانوی کارکنان، دفاعی شعبے اور نیٹو کی سکیورٹی کے لیے ایک فتح ہے۔

برطانوی حکومت کے مطابق تقریباً دو دہائیوں میں یہ سب سے بڑا برآمدی معاہدہ ہے جس سے آنے والے برسوں میں برطانیہ میں ملازمتوں کے سینکڑوں مواقع پیدا ہوں گے۔

دوسری جانب ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے اس معاہدے کو برطانیہ کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات کی نئی علامت قرار دیا ہے۔

برطانوی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ 20 ٹائیفون طیارے فراہم کرنے سے نیٹو کی سکیورٹی مضبوط ہوگی، ہمارے درمیان دفاعی تعاون بڑھے گا اور ترکیہ اور برطانیہ میں ’اقتصادی پیداوار کو ترقی ملے گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ مجھے فخر ہے کہ برطانوی ٹائیفون طیارے ترکیہ کی فضائیہ کا آنے والے برسوں میں اہم حصہ ہوں گے۔

واضح رہے کہ ٹائیفون طیارے برطانیہ، جرمنی، اٹلی اور سپین مشترکہ طور پر بناتے ہیں اور اس معاہدے کی توثیق ابھی ان ممالک سے ہونا باقی ہے۔توقع کی جارہی ہے کہ سنہ 2030 تک پہلا ٹائیفون طیارہ ترکی کو فراہم کر دیا جائے گا۔

ٹائیفون ایک فورتھ جنریشن لڑاکا طیارہ ہے جو کہ برطانیہ کی رائل ایئر فورس کا بھی حصہ ہے۔

رائل ایئر فورس کی ویب سائٹ پر موجود تفصیلات کے مطابق یہ طیارہ لبیا، عراق، شام اور رومانیہ میں بھی استعمال ہو چکا ہے۔

فضائی لڑائیوں کے لیے اس میں انفراریڈ گائیڈڈ اسرام میزائل، 27 ایم ایم ماؤزر گن نصب ہیں جب کہ دور تک مار کرنے کے لیے اس میں ایمریم اور ریڈار گائیڈڈ میزائل نصب ہیں۔

فضا سے زمین پر مار کرنے کے مشنز پر اس جہاز کے ذریعے لیزر گائیڈڈ بم، برمسٹون ٹو میزائل یا دور تک مار کرنے والے سٹورم شیڈو میزائل استعمال کیے جا سکتے ہیں۔